آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فورسز نے فضائی کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر مکمل طور پر تباہ کر دیے۔

October 2, 2026

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ منورہ کے گرڈ اسٹیشن پر ڈرون حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 2, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کیلئے نقل مکانی کے دعوے؛ کے پی حکومت نے سرکاری فیکٹ چیک جاری کر دیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ سے سردیوں کے موسم میں نشیبی علاقوں کی جانب موسمی نقل مکانی ایک معمول کی روایت ہے، جس پر مقامی آبادی دہائیوں سے عمل کر رہی ہے۔ موجودہ نقل و حرکت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اسے جبری انخلا قرار دینا درست نہیں۔
وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کیلئے نقل مکانی کے دعوے؛ کے پی حکومت نے سرکاری فیکٹ چیک جاری کر دیا

موجودہ نقل و حرکت یا تو موسمی نوعیت کی ہے یا پھر مقامی آبادی کی رضامندی سے کی جانے والی عارضی اور حفاظتی منتقلی، جس کا واحد مقصد شہریوں کا تحفظ اور علاقے میں امن کا قیام ہے۔

January 17, 2026

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے متعلق مبینہ جبری انخلا کی خبروں کو سیکیورٹی اور مقامی ذرائع نے بے بنیاد، گمراہ کن اور زمینی حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔

حال ہی میں بعض افغان، پی ٹی ایم اور فیک اکاؤنٹس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ وادی تیراہ میں سیکیورٹی آپریشن کے باعث تقریباً 30 ہزار خاندانوں کو قلیل وقت میں زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرین کے پاس نہ رہائش کا بندوبست ہے اور نہ ہی ذریعہ معاش۔ تاہم مستند ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ سے سردیوں کے موسم میں نشیبی علاقوں کی جانب موسمی نقل مکانی ایک معمول کی روایت ہے، جس پر مقامی آبادی دہائیوں سے عمل کر رہی ہے۔ موجودہ نقل و حرکت بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اسے جبری انخلا قرار دینا درست نہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بعض خاندانوں کی عارضی منتقلی سیکیورٹی خدشات کے تحت کی جا رہی ہے، جس کی وجہ علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند عناصر کی موجودگی ہے۔ یہ منتقلی مقامی جرگوں، قبائلی عمائدین اور کمیونٹی کی مشاورت اور رضامندی سے عمل میں آ رہی ہے، تاکہ عام شہریوں کو کسی ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ذرائع نے بتایا کہ وادی تیراہ کے عوام مجموعی طور پر دہشت گرد عناصر کے خلاف جاری سیکیورٹی کارروائیوں کی حمایت کر رہے ہیں، کیونکہ ان اقدامات کا مقصد علاقے میں امن، استحکام اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ حکام دانستہ طور پر گنجان آباد علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ ماضی میں شدت پسند گروہ آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی ایم اور بعض افغان عناصر اس معمول کی موسمی نقل مکانی اور احتیاطی سیکیورٹی اقدامات کو زبردستی بے دخلی کے طور پر پیش کر کے ریاستی کوششوں کو بدنام کرنے اور مقامی آبادی میں بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ سے متعلق یہ تاثر کہ لوگ داعش خراسان یا کسی بڑے آپریشن کے باعث جبری طور پر بے دخل ہو رہے ہیں، سراسر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ موجودہ نقل و حرکت یا تو موسمی نوعیت کی ہے یا پھر مقامی آبادی کی رضامندی سے کی جانے والی عارضی اور حفاظتی منتقلی، جس کا واحد مقصد شہریوں کا تحفظ اور علاقے میں امن کا قیام ہے۔

متعلقہ مضامین

آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی فورسز نے فضائی کارروائی کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر مکمل طور پر تباہ کر دیے۔

October 2, 2026

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مدینہ منورہ کے گرڈ اسٹیشن پر ڈرون حملے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

October 2, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *