اسلام آباد: دولتِ مشترکہ وزارتی ایکشن گروپ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان نے شرکت کرتے ہوئے تعمیری انداز میں اپنے مؤقف پیش کیے اور سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کیا، جس پر اجلاس میں پاکستان کی وسیع بنیادوں پر فعال شمولیت کو سراہا گیا،
تاہم اجلاس کے بعد سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے ایک مختصر طریقہ کار سے متعلق پیراگراف کو پاکستان کے خلاف کارروائی سے جوڑ کر مختلف دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے اجلاس میں تعمیری انداز میں گفتگو کی اور مختلف معاملات پر سفارتی رابطوں کو آگے بڑھایا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کی پیشگی اور فعال سفارتی مصروفیات کو مثبت انداز میں دیکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق سی ایم اے جی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ رابطوں اور اس کی شرکت کو سراہا گیا، جبکہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے دستاویز میں شامل ایک معمول کے طریقہ کار سے متعلق جملے کو بعض سوشل میڈیا صارفین نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بین الاقوامی اداروں کے اجلاسوں میں اس نوعیت کے طریقہ کار سے متعلق نکات معمول کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں کسی ممکنہ پابندی یا کارروائی کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوتا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی فورمز پر اپنی سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
دیکھئیے:ایران پر حملوں کے بعد روس کا بڑا سفارتی اقدام؛ آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس طلب