امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

September 25, 2026

عالمی تیل بحران کے باوجود پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ محدود رکھا گیا، سرکاری ذرائع

اگر عالمی قیمتوں کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تو یٹرولیم مصنوعات میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اضافہ 55 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا گیا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ محدود رکھا گیا

پاکستان میں روزانہ تقریباً 76,313,901 لیٹر پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔ عالمی قیمتوں کے دباؤ کو مکمل طور پر عوام تک منتقل نہ کرنے کے فیصلے کے تحت حکومت روزانہ تقریباً 4.19 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کر رہی ہے

March 8, 2026

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکومت نے عالمی دباؤ کا مکمل اثر عوام پر منتقل کرنے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 106.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 150 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر عالمی قیمتوں میں اضافے کا مکمل اثر پاکستان میں منتقل کیا جاتا تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اضافہ 55 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا گیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 76,313,901 لیٹر پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔ عالمی قیمتوں کے دباؤ کو مکمل طور پر عوام تک منتقل نہ کرنے کے فیصلے کے تحت حکومت روزانہ تقریباً 4.19 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ خود برداشت کر رہی ہے

حکام کے مطابق ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔ تمام پٹرول پمپ کھلے ہیں، ذخائر دستیاب ہیں اور سپلائی چین مستحکم ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی قلت یا بحران کا خدشہ نہیں۔

وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر ایندھن کی بچت اور معاشی نظم و ضبط پر مبنی قابل عمل منصوبہ پیش کیا جائے تاکہ توانائی کے استعمال کو مؤثر انداز میں منظم کیا جا سکے

مشیر برائے وزیر خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر پیغام میں لکھا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے بارے میں اکثر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین بنیادی طور پر عالمی منڈی میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں، درآمدی لاگت، ایکسچینج ریٹ اور ٹیکسوں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔

دیکھئیے: عالمی جنگ کے معیشت پر تباہ کن اثرات؛ حکومت پاکستان نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا تاریخی اضافہ کر دیا

متعلقہ مضامین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *