تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اس کے بنیادی حقِ دفاع کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

March 15, 2026

صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”

March 15, 2026

سیکیورٹی مبصرین کے مطابق نیمروز اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی گروپوں اور طالبان فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

March 15, 2026

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی صورت میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور ملک کو ایک بار پھر جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکالا جائے۔

March 15, 2026

تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔

March 15, 2026

ذرائع کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے جنگجوؤں نے تخار کے ایک علاقے میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملہ اچانک گھات لگا کر کیا گیا جس کے نتیجے میں مولوی معراج الدین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

March 15, 2026

بدعنوانی کا عمومی تصور مگر حقیقی تجربات کم: سروے میں 73 شہریوں نے رشوت نہ دینے کی تصدیق کردی

سروے کے مطابق شہری تجربات میں بدعنوانی کم، اسلام آباد میں شفافیت سب سے زیادہ اور نادرا بہترین ادارہ رہا۔ گزشتہ 20 سال میں عالمی رپورٹس سے صرف محدود بہتری دیکھنے کو ملی، جبکہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ اصل صورتحال واضح کرتا ہے
سروے کے مطابق شہری تجربات میں بدعنوانی کم، اسلام آباد میں شفافیت سب سے زیادہ اور نادرا بہترین ادارہ رہا۔ گزشتہ 20 سال میں عالمی رپورٹس سے صرف محدود بہتری دیکھنے کو ملی، جبکہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ اصل صورتحال واضح کرتا ہے

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے آئی پی ایس او ایس کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا مقامی سطح پر تیار کردہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا

February 4, 2026

پاکستان میں سرکاری اداروں کی شفافیت اور احتساب کی صورتحال پر کیے گئے ملک گیر سروے کے ابتدائی نتائج نے عوامی تصور اور حقیقی تجربے کے درمیان واضح خلیج کو منظر عام پر لے آیا ہے۔ یہ سروے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور بین الاقوامی تحقیقی فورم آئی پی ایس او ایس کے باہمی اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں ملک بھر کے چھ ہزار اٹھارہ افراد کی رائے شامل کی گئی۔ سروے کے نتائج کی تشہیر کی تقریب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت ہوئی، جبکہ ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، پالیسی مشاورتی بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین سمیت سرکاری و نجی شعبے، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ایک منفرد اور جامع پیمانہ
پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ ملک کا پہلا مقامی، مسلسل اور ہمہ جہت پیمانہ ہے، جسے سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کی زمینی حقیقت کو ناپنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں صرف عوامی رائے ہی نہیں بلکہ شہریوں کے براہ راست مشاہدات اور تجربات کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے، تاکہ اصلاحات اور حکومتی اقدامات کے عملی اثرات کا صحیح معنوں میں جائزہ لیا جا سکے۔ یہ اشاریہ روایتی بین الاقوامی پیمانوں سے یکسر مختلف ہے، جو زیادہ تر عمومی تاثرات، میڈیا کی رپورٹنگ اور عالمی تشخیصات پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ عوامی تجربے کو بنیاد بناتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ پاکستان میں حکمرانی اور ادارہ جاتی شفافیت کے تحقیقی دائرے میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

سروے کا طریقہ کار
سروے کا عمل دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران ملک گیر سطح پر انجام دیا گیا۔ تحقیق میں شہری اور دیہی علاقوں، تمام صوبوں، مختلف عمروں، جنسوں اور تعلیمی سطحوں کے نمائندہ افراد کو شامل کیا گیا۔ سروے کے لیے کمپیوٹر سے معاونت یافتہ ذاتی انٹرویوز کا طریقہ کار استعمال ہوا اور پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس نے نمونہ سازی کے عمل میں تکنیکی تعاون فراہم کیا۔ سروے میں بنیادی طور پر بدعنوانی کی تین اقسام کا جائزہ لیا گیا: رشوت، اقرباء پروری یا سفارش اور غیر قانونی مالی فائدہ حاصل کرنا۔

تاثرات اور تجربات میں واضح تضاد
نتائج سے معلوم ہوا کہ عوامی اذہان میں موجود تصورات اور ذاتی تجربات میں واضح تفاوت تضاد موجود ہے۔ ا67 فیصد کی رائے کا خیال تھا کہ سرکاری اداروں میں رشوت کا چلن عام ہے، لیکن فقط 27 فیصد نے اس کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ اقربا پروری کے حوالے سے 56 فیصد نے اس کے عمومی رواج کا تاثر دیا، جبکہ صرف 24 فیصد نے اپنے ساتھ ایسا ہوتے دیکھا۔ غیر قانونی مالی فائدے کے معاملے میں 59 فیصد نے اس کے عام ہونے کا خیال ظاہر کیا، مگر صرف پانچ فیصد نے کسی سرکاری ملازم کو ایسا کرتے ہوئے پایا۔ دلچسپ پہلو یہ رہا کہ 67 فیصد نے کہا کہ انہیں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا سامنا نہیں ہوا، 73 فیصد نے تصدیق کی کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت ہی پیش نہیں آئی، اور 76 فیصد نے اقربا پروری کا ذاتی طور پر سامنا نہ ہونے کی گواہی دی۔

اداراتی و جغرافیائی کارکردگی کا جائزہ
ادارہ جاتی اور جغرافیائی سطح پر تجزیے سے پتہ چلا کہ شفافیت کے اشاریے میں اسلام آباد کی کارکردگی سب سے بہتر رہی، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ عوامی خدمات کے معیار کے لحاظ سے نادرا سب سے بہتر ادارہ قرار پایا، جبکہ نیب کو سب سے مؤثر اینٹی کرپشن ادارہ تسلیم کیا گیا۔ حقیقی تجربات کی روشنی میں سب سے زیادہ شفافیت سرکاری ہسپتالوں، نادرا، تعلیمی اداروں اور ٹریفک پولیس میں مشاہدے میں آئی۔ شہری علاقوں میں بدعنوانی کے تصورات میں کمی اور نظام پر اعتماد کی سطح دیہات کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ نوجوان نسل کے تجربات بزرگ شہریوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہے، اور خواتین میں اداروں پر اعتماد مردوں کے مقابلے میں بلند پایا گیا۔

آگاہی اور اصلاحات کے اقدامات
سروے کے مطابق احتسابی نظام اور اینٹی کرپشن اداروں کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بعض قوانین سے متعلق شعور انتہائی محدود ہے۔ محض 8 فیصد رائے دہندگان کسی اینٹی کرپشن ادارے سے براہ راست رابطے میں آئے، اور گیارہ فیصد کو حق معلومات کے قوانین کا علم تھا۔ گzشتہ دہائی میں خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی، کاروائیوں کی خودکاری اور انسانی مداخلت میں کمی جیسے اصلاحی اقدامات نافذ کیے گئے، جس سے رشوت اور ناجائز فائدے کے مواقع میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اصلاحات کے اثرات شہری تجربات میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، اگرچہ عوامی ذہن میں موجود تاریخی اور منفی تاثرات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔

وفاقی وزیر کا مؤقف
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ شفافیت اور احتساب اچھی حکمرانی کی بنیاد ہیں اور شہری اطمینان، سازگار کاروباری ماحول، سرمایہ کاری کا اعتماد اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے عوامی تاثر اور حقیقی تجربے کے مابین موجود فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ منفی تصورات اگر بروقت دور نہ کیے گئے تو قومی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے اشاریہ کو مستقل بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جائے، تاکہ یہ اصلاحات اور نگرانی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکے۔

تاریخی تناظر: عالمی اشاریہ جات کا موازنہ
پاکستان میں بدعنوانی کے تاریخی رجحانات کے حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے بدعنوانی کے تصورات کا اشاریہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1995 سے 2022 تک پاکستان کا اسکور وقتاً فوقتاً بدلتا رہا، مگر مجموعی طور پر بہتری محدود رہی۔ رپورٹ کے مطابق 2005 میں اسکور تقریباً 39 کے قریب تھا۔ 2018 میں اسکور 33/100 اور 2019 میں 32/100 رہا۔ 2021 اور 2022 میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں 140 ویں نمبر پر رہا اور اسکور 28-29/100 رہا۔ 2023 میں کچھ بہتری دیکھی گئی اور پاکستان نے 133 ویں نمبر اور 29/100 اسکور حاصل کیا، تاہم 2024 میں دوبارہ اسکور 27/100 پر آگیا، جبکہ عالمی درجہ بندی میں ملک 135 ویں نمبر پر آ گیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا تقریباً 46 واں کرپٹ ترین ملک قرار پایا۔ یہ تاریخی رجحانات موجودہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ سروے کے نتائج کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی رائے پر مبنی اشاریہ جات پاکستان میں کی جانے والی اصلاحات حقائق کی عکاسی نہیں کرتے، جبکہ پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ شہریوں کے براہ راست تجربات کے ذریعے زمینی صورتحال کو واضح کرتا ہے۔

مستقبل
پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا اشاریہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے ذاتی تجربات کے مطابق بدعنوانی کی شرح عمومی تصورات کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ اشاریہ پاکستان میں نافذ کی گئی اصلاحات کے عملی اثرات کو واضح طور پر سامنے لاتا ہے اور شفافیت، عوامی اعتماد اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ایک عملی اور مستند بنیاد فراہم کرتا ہے۔

دیکھیے: کرم میں انٹیلجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کا افغان نژاد دہشت گرد جبار گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اس کے بنیادی حقِ دفاع کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

March 15, 2026

صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”

March 15, 2026

سیکیورٹی مبصرین کے مطابق نیمروز اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی گروپوں اور طالبان فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

March 15, 2026

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی صورت میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور ملک کو ایک بار پھر جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکالا جائے۔

March 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *