واشنگٹن میں پاک امریکہ انسدادِ دہشت گردی مذاکرات میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

August 5, 2026

قائد اعظم یونیورسٹی کی ایم فل طالبہ کو بی ایل اے کے ہاتھوں اغوا کر لیا گیا ہے۔ دہشت گرد تنظیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں ریاست کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

August 5, 2026

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے چھ برس مکمل ہونے پر طویل بندش، ڈومیسائل قوانین، جانی نقصانات اور متاثرہ سیاسی رہنماؤں کی روداد۔

August 5, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدے کا آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھولی جا رہی ہے اور تہران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیے جائیں گے۔

August 5, 2026

افغانستان میں طالبان کی انتقامی کارروائیاں تیز، گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔

August 4, 2026

دہشتگردوں کیخلاف کارروائی جائز اور ضروری، بھارتی الزامات شرمناک حد تک منافقانہ ہیں؛ وزارت خارجہ

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اس کے بنیادی حقِ دفاع کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
دہشتگردوں کیخلاف کارروائی جائز اور ضروری، بھارتی الزامات شرمناک حد تک منافقانہ ہیں؛ وزارت خارجہ

ترجمان نے زور دیا کہ بھارت ایسے بیانات دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی کوششوں سے باز رہے۔

March 15, 2026

پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے حالیہ اقدامات پر بھارت کے ردعمل کو ماہرین نے دوہرے معیار کی مثال قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی دہلی کی تنقید دراصل اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں اس کے مبینہ پراکسی نیٹ ورکس اور اثر و رسوخ کمزور پڑ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی بھارت کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاون مراکز کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں وہ مکمل طور پر قانونی اور ہدف شدہ ہیں۔ انہوں نے بھارتی الزامات کو “نامعقول، غیر ضروری اور شرمناک حد تک منافقانہ” قرار دیا۔

ترجمان کے مطابق بھارت کی افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کی حمایت اور سرپرستی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان جیسے گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے شواہد پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں، اور پاکستان کی کارروائی کے نتیجے میں ان نیٹ ورکس کو پہنچنے والے نقصان پر بھارت کی مایوسی قابل فہم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کئی برسوں تک طالبان کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا، لیکن 2021 میں کابل میں سیاسی تبدیلی کے بعد اس نے خاموشی سے اپنی پالیسی تبدیل کر لی اور طالبان حکومت کے ساتھ رابطے قائم کرنا شروع کر دیے۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت کی گئی تھی تاکہ افغانستان میں اثر و رسوخ برقرار رکھا جا سکے اور پاکستان کے ممکنہ اسٹریٹجک فائدے کو محدود کیا جا سکے۔

پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے لیے محض سفارتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت رہی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہزاروں پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں طویل عرصے تک بدامنی اور تشدد کے سائے رہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں خود ملوث رہا ہے، خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں ریاستی طاقت کے استعمال کے ذریعے۔ ان کے مطابق ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت میں اقلیتوں کو حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے، اسلاموفوبیا کو فروغ دیا جا رہا ہے اور بعض مواقع پر پانی کے وسائل کو بھی سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

ترجمان نے زور دیا کہ بھارت ایسے بیانات دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی کوششوں سے باز رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اس کے بنیادی حقِ دفاع کا حصہ ہیں اور انہیں کسی بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

واشنگٹن میں پاک امریکہ انسدادِ دہشت گردی مذاکرات میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

August 5, 2026

قائد اعظم یونیورسٹی کی ایم فل طالبہ کو بی ایل اے کے ہاتھوں اغوا کر لیا گیا ہے۔ دہشت گرد تنظیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں ریاست کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

August 5, 2026

مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کے چھ برس مکمل ہونے پر طویل بندش، ڈومیسائل قوانین، جانی نقصانات اور متاثرہ سیاسی رہنماؤں کی روداد۔

August 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *