داعش خراسان مشرقِ وسطیٰ میں فعال عالمی دہشت گرد تنظیم کی ایک علاقائی اور انتہائی متشدد شاخ ہے، جو جنوبی اور وسطی ایشیا بالخصوص پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔ اس کا قیام اور ارتقاء خطے میں دہائیوں سے جاری بدامنی، سرحد پار نقل و حرکت اور شدت پسند نظریات کا نتیجہ ہے۔
اس تنظیم کا باقاعدہ آغاز اکتوبر دو ہزار چودہ میں ہوا، جب تحریکِ طالبان پاکستان کے چھ سینئر کمانڈروں بشمول حافظ سعید خان اور ترجمان شیخ مقبول (شاہد اللہ شاہد) نے سابق عالمی رہنما ابو بکر البغدادی کی بیعت کی۔ جنوری دو ہزار پندرہ میں مرکزی شوریٰ نے اس گروپ کو ولایتِ خراسان کا نام دے کر حافظ سعید خان کو اس کا پہلا امیر مقرر کیا۔ پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور ‘آپریشن ضربِ عضب’ کے باعث اس نیٹ ورک نے افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار اور کنڑ کے دشوار گزار پہاڑوں کو اپنا آپریشنل مرکز بنا لیا۔
افرادی قوت
وقت کے ساتھ اس گروپ کی افرادی قوت چار ہزار سے چھ ہزار جنگجوؤں تک پہنچ گئی، جن میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ناراض عناصر، افغان طالبان کے منحرف رکن، اور وسطی ایشیائی ممالک بالخصوص تاجکستان اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی جنگجو شامل ہوئے۔ جون دو ہزار بائیس میں ثناء اللہ غفاری عرف شہاب المہاجر کو اس کا امیر مقرر کیا گیا، جو کابل کا رہائشی تھا اور ماضی میں حقانی نیٹ ورک سے منسلک رہا۔
غفاری نے شہری علاقوں میں گوریلا حملوں کی حکمتِ عملی اپنائی، جس کے نتیجے میں اگست دو ہزار اکیس میں کابل ہوائی اڈے پر خودکش حملہ ہوا، جس میں ایک سو ستر افغان شہری اور تیرہ امریکی فوجی مارے گئے۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق ثناء اللہ غفاری اب بھی افغان صوبے کنڑ میں موجود ہے اور وہیں سے اپنے مالیاتی و عملیاتی نیٹ ورک کی نگرانی کر رہا ہے۔
شدت پسند گروہوں سے روابط
دیگر تنظیموں کے ساتھ اس کے روابط میں سخت ترین دباؤ اور دشمنی پائی جاتی ہے۔ افغان طالبان کے ساتھ اس کا جھگڑا نظریاتی اور جغرافیائی تسلط کا ہے۔ داعش، افغان طالبان کو اپنے مقاصد تک محدود رہنے کی بنیاد پر غیر شرعی قرار دیتی ہے، جبکہ طالبان اسے اپنی حاکمیت کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کے سابقہ جنگجوؤں کی اس میں موجودگی کی وجہ سے ان کے عملیاتی رابطے انتہائی پیچیدہ اور مشکوک ہیں۔ یہی پیچیدگی اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ افغانستان اس وقت متعدد انتہا پسند گروہوں کا ایک مشترکہ مرکز بن چکا ہے۔
افغان سرزمین کا استعمال
داعش خراسان کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کرنے کا تسلسل ایک مسلمہ حقیقت بن چکا ہے۔ ماضی قریب میں نومبر دو ہزار بائیس میں کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانے پر حملہ، جولائی دو ہزار تیئیس میں باجوڑ کا تباہ کن بم دھماکہ، اور مختلف مواقع پر شمالی وزیرستان اور کرم سیکٹر میں دراندازی کی کوششیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغان صوبوں ننگرہار اور کنڑ کو پاکستان میں تخریب کاری کے لیے بطورِ لانچنگ پیڈ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ افغان حکام کی ناکامی اور سرحدی عدمِ استحکام کے باعث یہ تنظیم نہ صرف نئے جنگجوؤں کی بھرتی میں مصروف ہے بلکہ افغان سرزمین سے پورے خطے کی امن و امان کی صورتِ حال کو مفلوج کرنے کے درپے ہے۔