"> ڈیجیٹل یلغار اور پاکستان کا آہنی دفاع: دشمن کی ہر چال ناکام - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ڈیجیٹل یلغار اور پاکستان کا آہنی دفاع: دشمن کی ہر چال ناکام

بھارت اور اسرائیل کا حالیہ عسکری و سائبر اشتراک درحقیقت پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے، مگر پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کو محفوظ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر قسم کی ہائبرڈ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے
بھارت اور اسرائیل کا حالیہ عسکری و سائبر اشتراک درحقیقت پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے، مگر پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کو محفوظ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر قسم کی ہائبرڈ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے

ڈیجیٹل وار فیئر میں پاکستان کی بڑی کامیابی۔ بھارت اور اسرائیل کی مشترکہ سائبر سازشوں کے جواب میں اسرائیلی ویب سائٹس ہیک، حساس ڈیٹا تک رسائی اور بھرپور ڈیجیٹل دفاع کی تفصیلات

March 2, 2026

تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو پاکستان کے خلاف دشمن کی سازشیں کبھی رُکی نہیں ہیں، تاہم اب ان سازشوں کا رخ روایتی میدانِ جنگ سے ہٹ کر سائبر وار فیئر کی جانب ہو چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں مودی کے دورہ اسرائیل نے جس خطرناک گٹھ جوڑ کو جنم دیا، اس کا مقصد پاکستان کے دفاعی و معاشی استحکام کو نشانہ بنانا تھا۔ تاہم دشمن کی اس ڈیجیٹل یلغار کا جواب پاکستان نے نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ انداز میں بھی دیا۔

پاکستانی سائبر ماہرین نے اسرائیل کی متعدد اہم ویب سائٹس کو ہیک کر کے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور ان کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے سرورز پر “اللہ اکبر” اور “وللہ العزۃ ولرسولہ” کے نعرے درج کر کے یہ واضح کر دیا کہ ارضِ پاک کے محافظ ہر محاذ پر بیدار ہیں۔ تل ابیب کا یہ دورہ محض دو ممالک کا ملاپ نہیں تھا بلکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کے خلاف ایک ناکام عالمی سازش تھی، جس کا جواب پاکستان نے ڈیجیٹل میدان میں عملی طور پر دے دیا ہے۔

اسرائیل اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی دفاعی قربت نے اب ‘سائبر دہشت گردی’ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور بھارتی جارحیت کے امتزاج سے تیار کردہ ‘پیگاسس’ جیسے سپائی ویئر اور جدید ہیکنگ ٹولز کا استعمال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ دشمن اب ہماری سرحدوں کے اندر داخل ہوئے بغیر ہمارے حساس ڈیٹا، بینکنگ نظام اور عسکری مواصلات پر شب خون مارنے کے درپے ہے۔ مودی حکومت نے اسرائیل سے حاصل کردہ ان جدید ترین سائبر ہتھیاروں کو پاکستان کے خلاف ایک منظم ‘ہائبرڈ وار’ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں افراتفری پھیلانا اور قومی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔

تاہم دشمن اپنی اس خام خیالی میں شاید یہ بھول گیا ہے کہ پاکستان کا دفاع کسی ایک محاذ تک محدود نہیں۔ جس طرح 1965 کے معرکوں میں دشمن کو عبرت ناک شکست ہوئی اور جس طرح فروری 2019 میں پاکستان کی فضائیہ نے ‘ابھی نندن’ کے غرور کو خاک میں ملا کر دنیا کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا، بالکل اسی طرح آج پاکستان کے سائبر سپاہی ڈیجیٹل سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے ہر دور میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے۔ آج ہماری ‘نیشنل سائبر سکیورٹی فورس’ اور حساس ادارے دشمن کے ہر اس ‘سگنل’ اور ‘کوڈ’ پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو ہماری قومی سلامتی کے خلاف حرکت میں آتا ہے۔

پاکستان کا عزم مصمم ہے کہ چاہے وہ روایتی میدانِ جنگ ہو یا جدید دور کے پیچیدہ کمپیوٹر وائرسز، ارضِ پاک کا دفاع ناقابلِ تسخیر رہے گا۔ بھارت اور اسرائیل کی یہ ڈیجیٹل رقابت پاکستان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ ہم نے ہر محاذ پر ثابت کیا ہے کہ ہم نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں بلکہ جارح کو اس کی زبان میں جواب دینے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ آج کا پاکستان ڈیجیٹل دنیا میں بھی ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرا ہے، جہاں دشمن کی ہر چال اُسی پر پڑ رہی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ دشمن چاہے کتنے ہی بھیس بدل کر آئے اور کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے، پاکستان کی بقا اور اس کا وقار ہر قیمت پر مقدم رہے گا۔ تل ابیب اور نئی دہلی کا یہ اشتراک درحقیقت ان کی اپنی اندرونی کمزوری اور خوف کا عکاس ہے، جبکہ پاکستان کا ہر شہری اور ہر سپاہی اپنے ملک کی جغرافیائی اور ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار اور سینہ سپر ہے۔

دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *