ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی تِیراہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو صوبے کی اعلیٰ قیادت کی اولین ترجیح میدانِ سیاست کے بجائے میدانِ عمل ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق متاثرین کی بحالی، امداد اور تحفظ جیسے معاملات کو پسِ پشت ڈال کر اڈیالہ جیل کے باہر موجودگی صوبائی حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔

January 30, 2026

آسٹریلیا کی افغانستان کے لیے انسانی امداد خواتین کی بقاء کے لیے تو ہے لیکن طالبان کے سخت قوانین خواتین کی خود مختاری، تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت کو محدود کر کے امداد کے اثر کو محدود اور بے مقصد بنا رہے ہیں

January 30, 2026

IBOs کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نقل مکانی نقصانات سے بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو اس حکمتِ عملی سے سب سے زیادہ پریشانی ہے، کیونکہ اس سے ان کا ہمدردی پر مبنی جھوٹا بیانیہ خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔

January 30, 2026

بنوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر زیوران عرف بدری چار ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، جو سکیورٹی اداروں کو متعدد حملوں میں مطلوب تھا

January 30, 2026

میانوالی میں سی ٹی ڈی کی کاروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک، دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹ، دستی بم اور دیگر بارودی مواد برآمد

January 30, 2026

امریکہ کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے ایرانی فوج نے کہا ہے کہ امریکی اڈے ہمارے میزائلوں کی رینج میں ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں فیصلہ کن جواب دیا جائے گا

January 30, 2026

سرحدی کشیدگی اور دوحہ مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں فیصلہ کن موڑ

اگر افغان حکومت نے مخلصانہ رویہ اختیار نہ کیا تو جنوبی ایشیا ایک نئی غیر اعلانیہ جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے اور پاکستان اس بار دفاع نہیں، فیصلہ کرنے کے موڈ میں ہے۔
سرحدی کشیدگی اور دوحہ مذاکرات: پاک افغان تعلقات میں فیصلہ کن موڑ

یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب “دفاعی پوزیشن” سے نکل کر ''جوابی حکمتِ عملی'' اختیار کر چکا ہے۔

October 18, 2025

پاکستان نے گزشتہ چند دنوں میں افغانستان کے مختلف علاقوں کابل، پکتیکا، خوست، ننگرہار اور جلال آباد میں انتہائی مہارت کے ساتھ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش خراسان اور افغان طالبان کے مخصوص کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ تمام کیمپس بھارتی ایما پر پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کیلئے استعمال کیے جاتے تھے۔


یہ کارروائیاں پاکستان کے لیے محض جوابی حملے نہیں بلکہ ایک نئے دفاعی نظریے کی بنیاد ہیں جس کے تحت اب دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب “دفاعی پوزیشن” سے نکل کر ”جوابی حکمتِ عملی” اختیار کر چکا ہے۔

پاک۔افغان تعلقات – اعتماد کے بحران سے تصادم تک

افغان طالبان حکومت کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے کئی مواقع آئے مگر ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں، سرحدی حملوں اور پراکسی جنگ کے الزامات نے تعلقات کو کشیدہ تر کر دیا۔


اب صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان نے براہِ راست افغان حدود میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات ایک نئے اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔


افغان حکومت کو اب یہ طے کرنا ہے کہ کیا وہ اپنی سرزمین دہشتگردوں کے لیے استعمال ہونے دے گی یا عملی اقدامات کرے گی۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ ہر حملے کا جواب افغان سرزمین پر جا کر دیا جائے گا۔

دوحہ مذاکرات: ممکنہ نتائج اور چیلنج

اطلاعات کے مطابق آج شام دوحہ میں مذاکرات ہوں گے جس میں اس کشیدگی کے دیرپا حل پر تبادلہ خیال ہوگا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور وزیرِدفاع خواجہ آصف پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جبکہ افغانستان کی جانب سے ملا یعقوب اور افغان انٹیلیجنس چیف عبد الحق واثق مذاکرات میں شریک ہوں گے۔


یہ ملاقات دوحہ (قطر) میں ہو رہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان تنازعات کے حل کا مرکز رہا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ بات واضح ہے کہ یہ مذاکرات روایتی “مفاہمتی گفتگو” سے مختلف ہوں گے۔


پاکستان کا مؤقف اب سخت اور واضح ہے: “افغان سرزمین سے دہشتگردی بند نہ ہوئی تو کارروائیاں جاری رہیں گی”۔

کیا دوحہ مذاکرات کشیدگی کم کر سکیں گے؟

ممکن ہے کہ دوحہ مذاکرات میں عارضی جنگ بندی یا اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق ہو جائے مگر زمینی حقائق مختلف ہیں۔


افغان طالبان کے اندرونی دھڑوں میں ٹی ٹی پی اور خراسان گروپ کی ہمدردیاں اب بھی موجود ہیں، اور یہی پاکستان کےلیے اصل خطرہ ہے۔


پاکستان کی عسکری قیادت اس بار نرمی یا تاخیر کے بجائے واضح عملی اقدامات چاہتی ہے، جس کا اظہار حالیہ حملوں سے ہو چکا ہے۔

طاقت، سفارت کاری اور استقامت کا نیا توازن

یہ واضح ہے کہ پاکستان اب ریاستی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔


افغان طالبان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے ۔ یا تو وہ دوطرفہ تعلقات میں تعاون کا راستہ اختیار کریں، یا بین الاقوامی تنہائی اور معاشی دباؤ کے لیے تیار رہیں۔


پاکستان کا نیا مؤقف نہ صرف علاقائی توازن کو از سرِ نو متعین کرے گا بلکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو ایک نئے عالمی تناظر میں لے جائے گا۔

دوحہ مذاکرات اس وقت افغان حکومت کیلئے امن اور تصادم کے درمیان ایک آخری موقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔


اگر افغان حکومت نے مخلصانہ رویہ اختیار نہ کیا تو جنوبی ایشیا ایک نئی غیر اعلانیہ جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے اور پاکستان اس بار دفاع نہیں، فیصلہ کرنے کے موڈ میں ہے۔

دیکھیں: افغان وزیرِ خارجہ کے اُن بیانات کو مسترد کرتے ہیں جس میں انھوں نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے: دفترِ خارجہ

متعلقہ مضامین

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی تِیراہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو صوبے کی اعلیٰ قیادت کی اولین ترجیح میدانِ سیاست کے بجائے میدانِ عمل ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق متاثرین کی بحالی، امداد اور تحفظ جیسے معاملات کو پسِ پشت ڈال کر اڈیالہ جیل کے باہر موجودگی صوبائی حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔

January 30, 2026

آسٹریلیا کی افغانستان کے لیے انسانی امداد خواتین کی بقاء کے لیے تو ہے لیکن طالبان کے سخت قوانین خواتین کی خود مختاری، تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت کو محدود کر کے امداد کے اثر کو محدود اور بے مقصد بنا رہے ہیں

January 30, 2026

IBOs کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نقل مکانی نقصانات سے بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو اس حکمتِ عملی سے سب سے زیادہ پریشانی ہے، کیونکہ اس سے ان کا ہمدردی پر مبنی جھوٹا بیانیہ خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔

January 30, 2026

بنوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر زیوران عرف بدری چار ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، جو سکیورٹی اداروں کو متعدد حملوں میں مطلوب تھا

January 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *