تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

امریکی سینٹ میں طالبان کیلئے امداد کا سلسلہ روکنے کے بل کی منظوری تعطل کا شکار

یہ بل جون 2025 میں ایوانِ نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے۔ اس کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی ایسی بین الاقوامی یا امدادی فنڈنگ کو روک سکے جو بالواسطہ طور پر طالبان حکومت کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
امریکی سینٹ میں طالبان کیلئے امداد کا سلسلہ روکنے کے بل کی منظوری تعطل کا شکار

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس کی مدت ختم ہونے سے پہلے اس بل پر ووٹنگ نہ ہوئی تو آئندہ سال اس کی منظوری مزید مشکل ہو جائے گی۔

December 7, 2025

امریکہ میں “ایچ آر 260 نو ٹیکس ڈالرز فار دی ٹیررسٹس ایکٹ” ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ کانگریس کی موجودہ مدت ختم ہونے سے پہلے سینیٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اس بل پر فوری پیش رفت کی جائے۔

یہ بل جون 2025 میں ایوانِ نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے۔ اس کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی ایسی بین الاقوامی یا امدادی فنڈنگ کو روک سکے جو بالواسطہ طور پر طالبان حکومت کو فائدہ پہنچاتی ہو۔ تاہم یہ بل 24 جون سے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں زیر التوا ہے اور اس پر کوئی کاروائی نہیں ہو سکی ہے۔

دسمبر میں سابق امریکی فوجیوں، قدامت پسند گروہوں اور افغان اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بل پر کارروائی کے لیے آن لائن مہم بڑھ گئی ہے۔ ان مہمات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 2021 کے بعد افغانستان کے لیے ہفتہ وار 40 ملین ڈالر کی انسانی امداد بھیجی گئی، جس سے طالبان مبینہ طور پر ٹیکس اور مالی مداخلت کے ذریعے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بااثر شخصیات نے سینیٹ رہنماؤں اور کمیٹی اراکین کو ٹیگ کرتے ہوئے تاخیر کو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ مہم کے چلنے کے باوجود 7 دسمبر تک سینیٹ کی جانب سے اس مسئلے پر کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس کی مدت ختم ہونے سے پہلے اس بل پر ووٹنگ نہ ہوئی تو آئندہ سال اس کی منظوری مزید مشکل ہو جائے گی۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کی افغان پالیسی پر ایک نیا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

دیکھیں: جماعت الاحرار کی افغانستان میں عوامی تقریب؛ پاکستان کے مؤقف کی تصدیق ہو گئی

متعلقہ مضامین

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *