جنگ بندی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کا رابطہ؛ ایران نے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی، اعلیٰ سطح وفد جمعہ کو پاکستان پہنچے گا

April 8, 2026

چین کی میزبانی میں ارمچی مذاکرات مکمل؛ پاکستان اور افغانستان نے اکتوبر کے تنازع سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے جامع حل پر اتفاق کر لیا

April 8, 2026

ارمچی میں چین کی سہولت کاری سے ہونے والے پاک افغان مذاکرات کابل کے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے کی حمایت کی ہے، تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے خلاف افغان حکومت کے ٹھوس اور عملی اقدامات پر ہے

April 8, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے ‘ڈالری جنگ’ کا راگ الاپنے والے ناقدین کو خاموش کر دیا۔ یہ رپورٹ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قرضوں کی واپسی اور جنگ کے بجائے امن کے مشکل انتخاب کے ذریعے حاصل ہونے والے عالمی وقار کا احاطہ کرتی ہے

April 8, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی نے صیہونی ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امجد طہٰ کی پاکستان کے خلاف حالیہ ہرزہ سرائی دراصل اس بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے جو خطے میں امن کی بحالی سے امن دشمنوں پر طاری ہوئی ہے

April 8, 2026

پاکستان کی تاریخی سفارتی فتح؛ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں نے امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے نکال کر میز پر بٹھا دیا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن کے ضامن کے طور پر ابھر کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے

April 8, 2026

ڈالری جنگ کا طعنہ؟ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے سفارتی کردار نے آزاد خارجہ پالیسی پر مہر ثبت کر دی

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے ‘ڈالری جنگ’ کا راگ الاپنے والے ناقدین کو خاموش کر دیا۔ یہ رپورٹ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قرضوں کی واپسی اور جنگ کے بجائے امن کے مشکل انتخاب کے ذریعے حاصل ہونے والے عالمی وقار کا احاطہ کرتی ہے
مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی کامیاب ثالثی نے 'ڈالری جنگ' کا راگ الاپنے والے ناقدین کو خاموش کر دیا۔ یہ رپورٹ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی، قرضوں کی واپسی اور جنگ کے بجائے امن کے مشکل انتخاب کے ذریعے حاصل ہونے والے عالمی وقار کا احاطہ کرتی ہے

جب دنیا کی واحد سپر پاور اور عرب دنیا کے امیر ترین ممالک ایران کے خلاف صف آرا تھے، تو پاکستان کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جنگی اتحاد کا حصہ بن جاتا۔ لیکن پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے 'آسان جنگ' کے بجائے 'مشکل امن' کا راستہ منتخب کر کے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا

April 8, 2026

مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں پاکستان کے کلیدی اور مخلصانہ کردار نے ان تمام عناصر کے پراپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا ہے جو برسوں سے پاکستان کو ‘ڈالری جنگ’ کا طعنہ دیتے آ رہے تھے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کر کے پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی اب کسی عالمی دباؤ یا مالی منفعت کی مرہونِ منت نہیں بلکہ خالصتاً عالمی امن اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔

جب دنیا کی واحد سپر پاور اور عرب دنیا کے امیر ترین ممالک ایران کے خلاف صف آرا تھے، تو پاکستان کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جنگی اتحاد کا حصہ بن جاتا۔ لیکن پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے ‘آسان جنگ’ کے بجائے ‘مشکل امن’ کا راستہ منتخب کر کے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان اب عالمی سیاست میں ایک کرائے کے سپاہی کے طور پر نہیں بلکہ ایک باوقار ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

خارجہ پالیسی اور خود مختاری

پاکستان کا یہ غیر جانبدارانہ اور امن پسندانہ رویہ بعض علاقائی طاقتوں خصوصاً متحدہ عرب امارات کی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، جو ایران کے خلاف سخت مؤقف کے حامی تھے۔ تاہم پاکستان نے ایک تاریخی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف امن کا ساتھ دیا بلکہ مشکل معاشی حالات کے باوجود غیر ملکی قرضے واپس کر کے یہ واضح پیغام دیا کہ اس کی خارجہ پالیسی کسی مالی امداد کی محتاج نہیں۔ یہ عمل ان ناقدین کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جو پاکستان کی پالیسیوں کو ڈالروں سے جوڑتے تھے۔

ادارے اور ریاست پر تنقید کرنے والوں کا محاسبہ

مذکورہ سفارتی کامیابی نے ان ناعاقبت اندیش عناصر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جو حکومت اور ریاستی اداروں سے بغض کی بنیاد پر ملک کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر محض سیاسی مخالفت میں قومی عزم و حوصلے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے پاکستانی قیادت کے وقار کا اعتراف ان منفی ذہنوں کے لیے واضح جواب ہے۔

پاکستان کی حالیہ کامیابی محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ ایک نئی اسٹریٹجک سمت کا تعین ہے جہاں پاکستان خود کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مرکز اور عالمی امن کا ضامن گردانتا ہے۔ اسلام آباد نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کا قد و قامت اب پہلے سے کہیں بلند ہے اور وہ عالمی منظر نامے پر ایک ایسا ناگزیر کھلاڑی ہے جس کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔

متعلقہ مضامین

جنگ بندی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کا رابطہ؛ ایران نے اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی، اعلیٰ سطح وفد جمعہ کو پاکستان پہنچے گا

April 8, 2026

چین کی میزبانی میں ارمچی مذاکرات مکمل؛ پاکستان اور افغانستان نے اکتوبر کے تنازع سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے جامع حل پر اتفاق کر لیا

April 8, 2026

ارمچی میں چین کی سہولت کاری سے ہونے والے پاک افغان مذاکرات کابل کے رویے میں تبدیلی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے کی حمایت کی ہے، تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کے خلاف افغان حکومت کے ٹھوس اور عملی اقدامات پر ہے

April 8, 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی نے صیہونی ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امجد طہٰ کی پاکستان کے خلاف حالیہ ہرزہ سرائی دراصل اس بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے جو خطے میں امن کی بحالی سے امن دشمنوں پر طاری ہوئی ہے

April 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *