ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو بطور سرحد تسلیم کرنے کے حوالے سے اپنا تفصیلی مؤقف جاری کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مستند تاریخی دستاویزات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں ڈیورنڈ لائن سابق افغان حکمرانوں کے دور میں طے پائی تھی اور اب یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک سرکاری سرحد کے طور پر قائم ہو چکی ہے۔
محمد محقق کے مؤقف کی حمایت
مرکز نے اپنے بیان میں افغان رہنماء محمد محقق کے حالیہ جرات مندانہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ ڈیورنڈ لائن کی حقیقت کو نظر انداز کرنا نہ صرف قومی مفاد کے خلاف ہے بلکہ یہ مزید بحرانوں اور عوامی جذبات کے استحصال کا باعث بن سکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ محمد محقق کے حقیقت پسندانہ مؤقف پر بعض حلقوں کا سخت ردعمل غیر ذمہ دارانہ رویوں کا نتیجہ ہے۔
عدم استحکام کی وجوہات
ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر نے زور دیا کہ تاریخی حقائق کو چھپانا اور جذباتی نعروں پر انحصار کرنا ہی افغانستان میں طویل عدم استحکام اور عوامی مسائل کے تسلسل کی بنیادی وجہ رہا ہے۔ مرکز نے ملک کی موجودہ صورتحال کو “امتیازی اور جابرانہ پالیسیوں” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی حقائق کے اظہار کو پروپیگنڈے اور وقتی نعروں کی بھینٹ نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔
دانشوروں سے اپیل
بیان کے آخر میں ادارے نے دانشوروں اور اہلِ فکر سے اپیل کی کہ وہ عوامی شعور کی بیداری اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ادارے کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام معاملات کو تعصب سے پاک ہو کر عقل و دلیل کی بنیاد پر پرکھا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
دیکھیے: ہزارہ کمیونٹی پالیسی سینٹر کا ڈیورنڈ لائن کو پاک افغان مستقل سرحد تسلیم کرنے کا اعلان