مشرقی افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آ گئی ہے۔ نورستان کے علاقے کمدیش اور کنڑ کے مقام گورداش میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں 9 طالبان اہلکار ہلاک، 11 زخمی اور 9 لاپتا ہو چکے ہیں۔
کمدیش میں فریڈم فرنٹ کے درجنوں جنگجوؤں نے طالبان کی چوکیوں پر اچانک حملے کیے۔ جنگجوؤں نے راکٹوں اور بھاری گولہ بارود کا استعمال کیا۔ شدید لڑائی کے باعث طالبان نے کنڑ سے کمدیش اضافی نفری روانہ کی۔ اس دوران جلال آباد کی سڑکوں پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی بڑی نقل و حرکت دیکھی گئی۔
طالبان کی سخت پالیسیوں سے تنگ مقامی شہری بھی مزاحمتی گروہوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ مقامی افراد کے شامل ہونے سے مزاحمت کو عوامی طاقت مل رہی ہے۔ اس مشترکہ مزاحمت نے مشرقی علاقوں میں طالبان فورسز کے دفاع کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
خطے میں داعش کی سرگرمیوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں مختلف گروہوں کی پیش قدمی سے طالبان کا سکیورٹی کنٹرول کمزور پڑ رہا ہے۔ مشرقی افغانستان اب طالبان رجیم کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ جنگی محاذ بن چکا ہے۔