سوشل میڈیا پلیٹ فارم کابل پوائنٹ انگلش پر جاری ہونے والی ایک مبینہ آڈیو ٹیپ نے سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے مبینہ کمانڈر ٹیپو گل مروت کے مابین صوتی رابطہ سامنے آیا ہے۔ اس مبینہ گفتگو میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کے محرکات زیر بحث آئے ہیں۔
مبینہ آڈیو کے متن کے مطابق فتنہ الخوارج کے کمانڈر نے لانگ مارچ کی تاریخ مؤخر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ افغانستان سے آنے والے خوارج کے جتھے بنوں اور قریبی قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے سخت آپریشنز اور ناکہ بندی کے باعث مقررہ تاریخ تک اسلام آباد پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ فورسز کی سخت کارروائیوں کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت مکمل طور پر محدود ہو چکی تھی۔
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کی تاریخ کیوں آگے کی؟
— Kabul Point English (@Kabulpoint) September 26, 2026
حقیقت سامنے آگئی
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان اور فتنہ الخوارج کے کمانڈر ٹیپو گل مروت کی واٹس ایپ آڈیوز لیک
ذرائع کے مطابق افغان خوارج کا افغانستان سے آنے والا تشکیل قبائلی علاقوں میں جاری فورسز کے آپریشنز اور سخت سیکیورٹی کی وجہ… pic.twitter.com/3BWLo4aImT
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انکشاف نو مئی کے پرتشدد واقعات کے تسلسل کی کڑی معلوم ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتجاج کی آڑ لے کر ملک میں انتشار اور سیکیورٹی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بیرونی عناصر کے اشارے پر لانگ مارچ کے ہجوم میں ان عسکریت پسندوں کو وفاقی دارالحکومت تک داخل کرانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جو فورسز کی بروقت چوکسی کے باعث ناکام ہوا۔
پی ٹی آئی روابط پر عوامی ردعمل
منظر عام پر آنے والی گفتگو میں صوبائی وزیر کو واٹس ایپ پر براہِ راست بات نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے، جس سے معاملات کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس مبینہ گٹھ جوڑ کے سامنے آنے کے بعد عوامی و عسکری حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور اس پورے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔