رجب طیب اردگان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیز فائر کو مضبوط بنانے کے لیے ترکی کے تعاون کی پیشکش کی ہے۔
ترکیہ کے ایوانِ صدر کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور افغانستان-پاکستان کشیدگی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بیان کے مطابق صدر اردگان نے کہا کہ ترکی، انقرہ کی کوششوں سے پہلے قائم ہونے والے سیز فائر کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکی خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
ترک صدر نے مبینہ طور پر اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے سفارتی اور سیاسی سطح پر تعاون جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق گفتگو میں پاکستان–ترکی اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور دفاعی روابط پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے واقعات کے بعد سیز فائر کی کوششیں تیز کی گئی تھیں، جن میں ترکی نے بھی سفارتی سطح پر کردار ادا کیا۔ ترکی کی جانب سے سیز فائر کو تقویت دینے کی پیشکش کو علاقائی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔