یورپی یونین (EU) اور بھارت کے درمیان متوقع آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) بھارت کی مقامی صنعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کے لیے غیر مساوی تجارتی تعلقات پیدا کرے گا، جس میں بھارت کی مارکیٹ یورپی کمپنیوں کے لیے کھلی ہو جائے گی، جبکہ یورپ اپنی مارکیٹ کو پیچیدہ ضوابط کے ذریعے محفوظ رکھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، معاہدے کے تحت یورپی مصنوعات پر عائد €4 بلین سالانہ کے ٹیکس کم کرنے سے بھارت کی نوجوان اور نازک صنعتوں کو یورپی کمپنیوں کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا، جو کہ جدید اور بھاری سبسڈائزڈ ہیں۔ اس کے علاوہ مشینری پر 44 فیصد، کیمیکلز پر 22 فیصد اور ادویات پر 11 فیصد تک ٹریف کم ہونے کی وجہ سے یورپی مصنوعات بھارتی صنعتوں کی قیمتوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی کاروبار کو بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے یورپی مصنوعات کے مقابلے میں کھڑا کیا جا رہا ہے، جبکہ یورپ نے اپنی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے دہائیوں تک پروٹیکشن ازم اپنایا۔ اس کے برعکس، بھارت اپنی مارکیٹ کھول رہا ہے، مگر یورپ غیر ٹریفی رکاوٹیں مضبوط کر رہا ہے جو بھارتی کمپنیوں کے لیے یورپی مارکیٹ تک رسائی تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں۔
2026 سے، یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم بھارتی اسٹیل اور ایلومینیم پر 20 سے 35 فیصد کاربن ٹیکس عائد کرے گا، جس سے برآمدات پر دباؤ بڑھے گا اور بھارت میں ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔ بھارتی کمپنیوں پر دوہری دباؤ ہے: یورپی مصنوعات بھارت میں سستی قیمت پر دستیاب ہوں گی، جبکہ بھارتی مصنوعات یورپ میں مہنگی ہوں گی۔
نئے ماحولیاتی اور پائیداری کے ضوابط بھارتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے بھاری compliance لاگتیں پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں وہ یورپی مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آٹو مصنوعات پر 110 فیصد سے 10–40 فیصد تک ٹریف کم ہونے سے بھارت کی لگژری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو اپنی مکمل ترقی سے پہلے ہی مقابلے کا سامنا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کے “Make in India” پروگرام کو کمزور کرے گا اور بھارت کو یورپی مصنوعات کا صرف صارف بنا دے گا، بجائے اس کے کہ وہ اپنی پیداوار پر انحصار کرے۔ اس طرح، یہ FTA بھارت کی اقتصادی خود مختاری کو کمزور کرتا ہے، مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور درآمدی انحصار کو بڑھاتا ہے۔
دیکھیں: افغانستان میں تاپی منصوبے کی پیش رفت، 91 کلومیٹر مکمل