...
دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

نیتن یاہو نے ایک بیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا موازنہ منگول حکمران چنگیز خان سے کیا اور طاقت و جارحیت سے متعلق گفتگو کی

March 20, 2026

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 48 پوائنٹس کے ساتھ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر رہی

March 20, 2026

یورپی یونین اور بھارت کا آزاد تجارتی معاہدہ: بھارت کے لیے غیر مساوی تجارتی تعلقات کا خدشہ بڑھ گیا

نئے ماحولیاتی اور پائیداری کے ضوابط بھارتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے بھاری compliance لاگتیں پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں وہ یورپی مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آٹو مصنوعات پر 110 فیصد سے 10–40 فیصد تک ٹریف کم ہونے سے بھارت کی لگژری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو اپنی مکمل ترقی سے پہلے ہی مقابلے کا سامنا ہوگا۔
یورپی یونین اور بھارت کا آزاد تجارتی معاہدہ: بھارت کے لیے غیر مساوی تجارتی تعلقات کا خدشہ بڑھ گیا

تجزیہ کاروں کے مطابق، معاہدے کے تحت یورپی مصنوعات پر عائد €4 بلین سالانہ کے ٹیکس کم کرنے سے بھارت کی نوجوان اور نازک صنعتوں کو یورپی کمپنیوں کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا، جو کہ جدید اور بھاری سبسڈائزڈ ہیں۔

January 27, 2026

یورپی یونین (EU) اور بھارت کے درمیان متوقع آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) بھارت کی مقامی صنعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کے لیے غیر مساوی تجارتی تعلقات پیدا کرے گا، جس میں بھارت کی مارکیٹ یورپی کمپنیوں کے لیے کھلی ہو جائے گی، جبکہ یورپ اپنی مارکیٹ کو پیچیدہ ضوابط کے ذریعے محفوظ رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، معاہدے کے تحت یورپی مصنوعات پر عائد €4 بلین سالانہ کے ٹیکس کم کرنے سے بھارت کی نوجوان اور نازک صنعتوں کو یورپی کمپنیوں کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا، جو کہ جدید اور بھاری سبسڈائزڈ ہیں۔ اس کے علاوہ مشینری پر 44 فیصد، کیمیکلز پر 22 فیصد اور ادویات پر 11 فیصد تک ٹریف کم ہونے کی وجہ سے یورپی مصنوعات بھارتی صنعتوں کی قیمتوں کو پیچھے چھوڑ سکتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی کاروبار کو بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے یورپی مصنوعات کے مقابلے میں کھڑا کیا جا رہا ہے، جبکہ یورپ نے اپنی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے دہائیوں تک پروٹیکشن ازم اپنایا۔ اس کے برعکس، بھارت اپنی مارکیٹ کھول رہا ہے، مگر یورپ غیر ٹریفی رکاوٹیں مضبوط کر رہا ہے جو بھارتی کمپنیوں کے لیے یورپی مارکیٹ تک رسائی تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں۔

2026 سے، یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم بھارتی اسٹیل اور ایلومینیم پر 20 سے 35 فیصد کاربن ٹیکس عائد کرے گا، جس سے برآمدات پر دباؤ بڑھے گا اور بھارت میں ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔ بھارتی کمپنیوں پر دوہری دباؤ ہے: یورپی مصنوعات بھارت میں سستی قیمت پر دستیاب ہوں گی، جبکہ بھارتی مصنوعات یورپ میں مہنگی ہوں گی۔

نئے ماحولیاتی اور پائیداری کے ضوابط بھارتی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے بھاری compliance لاگتیں پیدا کریں گے، جس کے نتیجے میں وہ یورپی مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ آٹو مصنوعات پر 110 فیصد سے 10–40 فیصد تک ٹریف کم ہونے سے بھارت کی لگژری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو اپنی مکمل ترقی سے پہلے ہی مقابلے کا سامنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کے “Make in India” پروگرام کو کمزور کرے گا اور بھارت کو یورپی مصنوعات کا صرف صارف بنا دے گا، بجائے اس کے کہ وہ اپنی پیداوار پر انحصار کرے۔ اس طرح، یہ FTA بھارت کی اقتصادی خود مختاری کو کمزور کرتا ہے، مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور درآمدی انحصار کو بڑھاتا ہے۔

دیکھیں: افغانستان میں تاپی منصوبے کی پیش رفت، 91 کلومیٹر مکمل

متعلقہ مضامین

دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔

March 21, 2026

انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔

March 21, 2026

آرمی چیف نے ایران کے حوالے سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطے میں جنگی کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے

March 20, 2026

بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں باہر ہی نماز ادا کرنا پڑی۔ اس اقدام کو فلسطینی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

March 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.