افغانستان کی معروف خاتون سیاستدان اور سابق پارلیمانی رکن فوزیہ کوفی نے طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں پر عائد تعلیمی پابندیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کے خلاف جدوجہد کو ایک مقدس جدوجہد قرار دیا ہے۔
امو ٹی وی کے مطابق فوزیہ کوفی نے سابق سیاسی رہنماء خیرمحمد خیرخواہ کی برسی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طالبان حکومت کی تعلیمی پالیسیوں پر براہ راست تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج افغانستان کی بیٹیوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف ان کے مستقبل بلکہ پورے ملک کی ترقی اور خودمختاری کے خلاف ہے۔
انہوں نے ان بیانیوں پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا جو ملک میں امن، تعلیم اور مزاحمت کی علامت شخصیات کو ناحق جنگجو سردار قرار دیتے ہیں۔ فوزیہ کوفی کے مطابق یہ سراسر ناانصافی ہے کہ ان شخصیات کو جنگجو کہا جائے جنہوں نے ہمیشہ قلم اور علم کے ذریعے قوم کی خدمت کی اور استقامت و حب الوطنی کی مثال قائم کی۔
فوزیه کوفی، عضو مجلس نمایندگان در حکومت پیشین، در همایشی به مناسبت سالیاد خیرمحمد خیرخواه گفت که تلاش برای بازگشایی مکتبها بهروی دختران و دفاع از هویت، «یک جنگ مقدس» است.
— Amu TV (@AmuTelevision) January 11, 2026
او از روایتهایی انتقاد کرد که چهرههایی صف نخست ایستادگی را ناعادلانه «جنگسالار» معرفی میکنند. pic.twitter.com/q1eHCfwdAc
تعلیمی بحران کی گہرائی
فوزیہ کوفی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں ایک پوری نسل کا مستقبل خطرے میں ہے۔ تین ملین سے زائد لڑکیاں اور نوجوان خواتین اسکول اور جامعات سے محروم ہیں، جسے ماہرین تعلیمی نسل کشی سے تعبیر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خواتین کی تعلیم پر پابندی کے باعث معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق خواتین کی معاشی شرکت محدود ہونے سے افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے، جبکہ ہزاروں خاندان بے روزگاری اور غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔
دیکھیں: افغان نائب گورنر کے بیٹے سمیت دو بچے اغواء، ریسکیو آپریشن کے بعد رہا