پاکستان کے سابق نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے ڈنمارک میں مقیم بلوچ برادری سے ملاقات کے دوران افغانستان کی صورتحال اور خطے میں استحکام سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ افغانستان میں بیرونی طاقتوں کی وسیع مالی اور عسکری معاونت کے باوجود وہاں کا نظام تیزی سے منہدم ہو گیا، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پائیدار استحکام بیرونی سہاروں سے نہیں بلکہ مقامی بنیادوں پر استوار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور طویل المدتی غیر ملکی موجودگی کے باوجود افغان ریاستی ڈھانچہ دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور امن و استحکام کے لیے عملی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال نے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ مسائل کا حل مقامی حقائق اور زمینی حالات کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ بیرونی مداخلت کے ذریعے مسلط کیا جائے۔
سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں اور شدید دباؤ کے باوجود اپنی ریاستی ساخت اور ادارہ جاتی استحکام کو برقرار رکھا۔ انہوں نے مسلح افواج اور ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی استقامت پاکستان کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔
انوار الحق کاکڑ کے مطابق افغان تجربہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دیرپا امن کے لیے مقامی شراکت داری، سیاسی مفاہمت اور داخلی خود انحصاری ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، حقیقت پسند اور مستحکم ریاست کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو خطے میں امن، استحکام اور تعمیری تعاون کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے بھی خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سابق وزیرِ اعظم نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی یکجہتی اور مثبت بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔