اطالوی صحافی فرانچیسکا مارینو کی بالاکوٹ حملے پر رپورٹنگ نے ذرائع کی سچائی اور دعووں کی حقیقت پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں مارینو کے دعووں کو حوالے کے طور پر پیش کیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستانی حکام نے حملے کے بعد صرف 35 لاشیں ہٹائی، جبکہ بھارت کی سرکاری دعویٰ کے مطابق حملے میں 300 مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ اس تضاد نے نہ صرف مارینو کی رپورٹنگ پر سوالات اٹھائے بلکہ بھارت کے دعووں کی شفافیت اور صداقت کو بھی زیرِ بحث لا دیا۔
مارینو کی کتاب بالاکوٹ: پلوامہ سے بدلہ تک میں زیادہ تر نامعلوم ذرائع پر انحصار کیا گیا ہے اور بین الاقوامی میڈیا یا تحقیقاتی اداروں کی مشاہدات کو نظر انداز کیا گیا۔ کتاب میں بھارت کے دعووں کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ خود مارینو کی رپورٹنگ میں شواہد کی کمی واضح ہے۔ آن مقام مشاہدات اور مقامی لوگوں کے بیانات کے مطابق حملے سے صرف درخت اور معمولی املاک کو نقصان پہنچا، ایک شخص زخمی ہوا اور کسی کی موت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
بین الاقوامی میڈیا ادارے جیسے بی بی سی، رائٹرز، اے ایف پی، نیو یارک ٹائمز اور الجزیرہ حملے کے بعد فوراً موقع پر پہنچے، مگر کسی بھی عمارت کے تباہ ہونے یا انسانی ہلاکت کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ بھارت کی سرکاری دعوے بار بار بدلتے رہے، پہلے 300، پھر 350، پھر “کئی” اور آخر میں صرف “ہدف پر حملہ کیا گیا” تک محدود رہے۔ یہ صورتحال مارینو کی رپورٹنگ میں شفافیت کی کمی اور نامعلوم ذرائع پر انحصار کی وجہ سے مزید مشکوک ہو گئی۔
مارینو کے مضامین اکثر غیر معروف ویب پلیٹ فارمز پر شائع ہوتے ہیں اور ان کے پیشہ ورانہ پس منظر کی معلومات محدود ہیں، جو ان کے دعووں کی شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، مارینو کی بھارت کے بیانیے کی حمایت اور ہزاروں میل دور سے بھارتی موقف کی تقویت، رپورٹنگ کی جانبداری کو واضح کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طرح کی رپورٹنگ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ مخصوص سیاسی اور نظریاتی بیانیے کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے حوالے سے کسی بھی رپورٹ یا دعوے کو معتبر شواہد، تصویری اور مقامی مشاہدات کے بغیر قبول نہیں کیا جانا چاہیے، ورنہ یہ عوام میں غلط معلومات اور مبالغہ آرائی پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔ بالاکوٹ حملے پر مارینو کی رپورٹنگ نہ صرف مبہم ہے بلکہ اس میں پیش کی گئی معلومات کی بین الاقوامی سطح پر کوئی تصدیق شدہ بنیاد موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے اسے مکمل طور پر شواہد پر مبنی رپورٹنگ نہیں کہا جا سکتا۔
دیکھیں: پاکستانی ریپر طلحہ انجم بھارتی پرچم لہرانے پر تنقید کی زد میں