ایران اور امریکہ کے مابین ممکنہ سفارتی مذاکرات کی خبروں نے عالمی تیل کی منڈی پر فوری اثر دکھایا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں دو فیصد تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیل کی عالمی قیمتوں میں واضح کمی کی سب سے اہم وجہ دونوں ممالک کے مابین بحال ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو سمجھا جا رہا ہے۔
برٹش برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 2.07 فیصد گر کر فی بیرل 68.02 امریکی ڈالر رہ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 2.06 فیصد کی کمی کے بعد فی بیرل 63.80 ڈالر پر پہنچ گیا۔
گزشتہ روز تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا تھا، لیکن ایران اور امریکہ کے ممکنہ سفارتی رابطوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مارکیٹ میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوا تو تیل کی عالمی سپلائی میں اضافے کے امکانات پیدا ہوں گے، جس سے مارکیٹ میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری سیاسی کشیدگی میں کمی کے امکانات نے بھی تاجروں میں ایک مثبت ردعمل پیدا کیا ہے۔
ان حالات میں تیل درآمد کرنے والے ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر معیشتوں کے لیے یہ قیمتی کمی ریلیف کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کو ممکنہ طور پر اپنی آمدنی میں ہونے والی اس کمی کا ازالہ کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرنے پڑسکتے ہیں۔