گیارہ ستمبر 2001 کے بعد دنیا نے جس عالمی دہشت گردی کے خاتمے کا عزم باندھا تھا، پچیس سال بعد وہی خطرہ ختم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ، غیر مرکزی اور خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ معروف امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کی پچیس سالہ جائزہ رپورٹ نے اس تلخ حقیقت پر سے پردہ اٹھایا ہے کہ عالمی جنگوں اور اربوں ڈالرز کے عسکری اخراجات کے باوجود خطہ امن سے جتنا دور پہلے تھا، آج اس سے کہیں زیادہ غیر محفوظ دکھائی دیتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کا تاریخی جغرافیائی مرکز یعنی افغانستان، آج طالبان کے اقتدار میں ایک بار پھر فتنہ و فساد کا مرکزی گڑھ بن چکا ہے۔
طالبان رجیم نے اقتدار میں واپسی پر عالمی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تاہم زمینی حقائق اس بیانیے کے بالکل الٹ ہیں۔ رپورٹ کے شواہد واضح کرتے ہیں کہ کابل انتظامیہ نے افغانستان کو درجن بھر شدت پسند تنظیموں کے لیے مستقل پناہ گاہ بنا رکھا ہے۔
سب سے سنگین صورتحال پاکستان کے لیے پیدا ہو چکی ہے، جہاں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان اڈوں سے کھلے عام حملے منظم کر رہی ہے اور پاک افواج کے جوانوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی جیسے خطرناک عناصر کو لگام نہ دینا اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ دونوں کے مابین نظریاتی اور عملی اتحاد قائم ہے، جو سرحد پار خونریزی کا مستقل سبب بن رہا ہے۔
دہشت گردی کا موجودہ بحران محض روایتی عسکریت پسندی تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج نے اسے بے پناہ مہلک بنا دیا ہے۔ داعش خراسان، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم جیسی تنظیمیں مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) اور غیر منظم کرپٹو کرنسیوں کا استعمال کر کے اپنی بھرتیوں اور فنڈنگ کے نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہیں۔
جب کسی ریاست کی سطح پر عسکریت پسندوں کو جغرافیائی تحفظ میسر ہو اور وہ ڈیجیٹل دور کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہو جائیں، تو خطرہ محض علاقائی نہیں رہتا بلکہ سرحدوں سے نکل کر پورے کرۂ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ داعش خراسان کی جانب سے وسطی ایشیا کے نوجوانوں کی بھرتی اور غیر حکومتی علاقوں میں تربیتی کیمپوں کا قیام اس عالمی خطرے کا پیش خیمہ ہے۔
عالمی برادری اور خطے کے ذمہ دار ممالک کو اب مصلحت پسندی اور زبانی جمع خرچ کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔ طالبان حکومت کی یہ مسلسل لاپرواہی یا دانستہ سہولت کاری صرف خطے کے استحکام کو داؤ پر نہیں لگا رہی، بلکہ ایک اور عالمی المیے کو جنم دینے کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ پاکستان برسوں سے جس حقیقت کو عالمی فورمز پر اجاگر کرتا رہا ہے، آج معتبر عالمی ماہرین نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
اگر کابل کی حکومت نے شدت پسند تنظیموں کی پشت پناہی فوری بند نہ کی اور اپنی سرزمین سے ٹی ٹی پی و دیگر نیٹ ورکس کا خاتمہ نہ کیا، تو عالمی سطح پر اس کا مکمل تنہائی کا شکار ہونا اور خطے کے عسکری ردِ عمل کی زد میں آنا ناگزیر ہو جائے گا۔ امن کی قیمت پر دہشت گردی کی اس نرسری کو مزید پنپنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دیکھیے: ٹی ٹی پی کے ہاتھوں امریکی اسلحہ، خیبر پختونخوا پھر نشانے پر