افغانستان کے صوبے قندھار میں عید الفطر کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں شدید جارحانہ بیانیہ اختیار کیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد نے اسلامی روایات اور برادر ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکی کی درخواست پر ‘آپریشن غضب للحق’ میں عارضی تعطل کا اعلان کر رکھا ہے۔
جارحانہ بیانیہ اور زمینی حقائق
طالبان رہنماء نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ہمیں کسی کی بمباری یا توپ خانے کی فائرنگ کی پرواہ نہیں۔ اگر ہمیں اس سے خوف ہوتا تو نیٹو اور مغرب ہمیں شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے”۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو کے دور کے تنازع سے موجودہ صورتحال کی مماثلت قائم کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کوئی غیر ملکی قابض طاقت نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر ہونے والے ٹی ٹی پی کے حملوں کے جواب میں کارروائی کر رہا ہے جن کا منبع افغان سرزمین ہے۔
The #Taliban supreme leader Shaikh Hibatullah Akundzada, addressed thousands of worshipers in Eid al-Fitr prayers at the #Kandahar Eidgah. In a veiled reference to war with #Pakistan', the Taliban leader said, "We don't care about anyone bombing or firing artillery. If we were… pic.twitter.com/ZUKLwsF4fm
— Tahir Khan (@taahir_khan) March 19, 2026
پاکستان کا عارضی تعطل
پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عید کے تقدس کی خاطر 18/19 مارچ سے 23/24 مارچ 2026 تک فوجی کاروائیوں میں عارضی تعطل کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام پاکستان کی جانب سے اعتدال اور حسنِ نیت کا واضح ثبوت ہے، تاہم کابل کی جانب سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی اور اس طرح کے دشمنانہ پیغامات سیکیورٹی خدشات کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
داخلی دباؤ اور حکومتی سمت
اپنے خطاب میں ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ “عوام کا حق ہے کہ وہ ہم سے پوچھیں کہ ہماری حکومت کہاں جا رہی ہے”۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بیان طالبان حکومت پر موجود داخلی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، افغانستان کا استحکام اور عالمی تنہائی کا خاتمہ بیانیہ بڑھانے میں نہیں بلکہ اپنی سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے میں پنہاں ہے۔
پاکستان کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کی جانب سے یہ پیغام واضح کر دیا گیا ہے کہ عارضی تعطل صرف کشیدگی کم کرنے کے ارادے کی عکاسی ہے، لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ سرحد پار سے ہونے والے کسی بھی حملے، ڈرون کارروائی یا دہشت گردی کی کوشش پر پاکستان کی جانب سے فوری، مؤثر اور سخت ترین جواب دیا جائے گا۔
دیکھیے: بھارتی سازشوں کا تسلسل: پاکستان کا میزائل پروگرام اور مخالف گروہوں کا نیا وار