پکتیا کے سابق گورنر محمد حلیم فدائی کا افغانستان میں ہمہ گیر حکومت کا مطالبہ؛ طالبان کے نسلی اجارہ داری پر مبنی ڈھانچے اور غیر پشتون آبادی کو اقتدار سے باہر رکھنے پر عالمی تشویش میں اضافہ۔

May 4, 2026

افغان طالبان کی جانب سے انسانی ڈھال اور پروپیگنڈا کا خطرناک کھیل بے نقاب؛ کنڑ کے علاقے ڈانگام میں سویلین نقصانات کے من گھڑت دعووں کی آڑ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چھپانے کی مذموم کوشش۔

May 4, 2026

کراچی پولیس نے کم عمر لڑکی کو دہشت گردی کے جال سے بچا کر بی ایل اے کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا؛ مہرنگ اور شاری بلوچ کی ویڈیوز کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کی ذہن سازی کا انکشاف۔

May 4, 2026

طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی افغان لڑکی کی آپ بیتی؛ دہشت گردی کے زخموں سے لے کر تعلیمی پابندیوں تک، افغان خواتین کے مخدوش مستقبل پر ایک دردناک رپورٹ۔

May 4, 2026

طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ نے افغانستان کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا حکم دیتے ہوئے وزیر مواصلات سمیت 19 صوبوں کے گورنرز، نائب گورنرز اور پولیس چیفس کے تبادلے کر دیے ہیں۔

May 4, 2026

ملا ہیبت اللہ کا یہ خطرناک دعویٰ قرآنِ حکیم کی آیتِ کریمہ “أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ” (النساء: 59) کو بنیاد بنا کر کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیے اطاعتِ مطلقہ کا دعویٰ کرے، تو یہ دعویٰ درحقیقت نصوصِ شرعیہ کے فہم میں ایک ایسی لغزش ہے جو علم کی کمی سے نہیں بلکہ ترتیبِ استدلال کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔

May 4, 2026

حقائق سے چشم پوشی: پاکستان کے دفاعی حلقوں کا اقوامِ متحدہ کی رپورٹ پر شدید ردِعمل

دفاعی ماہرین نے اقوامِ متحدہ (او سی ایچ اے) کی رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملوں کو ‘شہری نقصان’ بتا کر حقائق مسخ کر رہا ہے
دفاعی ماہرین نے اقوامِ متحدہ (او سی ایچ اے) کی رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملوں کو 'شہری نقصان' بتا کر حقائق مسخ کر رہا ہے

پاک افغان کشیدگی پر او سی ایچ اے کی جانبدارانہ رپورٹ اور پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا ردِعمل۔ عالمی ادارے کو حقائق چھپانے پر جوابدہ بنانا ضروری ہے

March 19, 2026

اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کی ہم آہنگی کے دفتر (او سی ایچ اے) کی جانب سے پاک افغان فوجی کشیدگی پر جاری کردہ حالیہ رپورٹ نے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار اور بیانیہ نہ صرف یکطرفہ ہے بلکہ اس میں سرحد پار دہشت گردی کے اصل اسباب کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، جس پر اقوامِ متحدہ کو عالمی سطح پر جوابدہ بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

حقائق کا فقدان

او سی ایچ اے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری کے آخر سے جاری کشیدگی میں اب تک سینکڑوں شہری متاثر ہوئے اور ہزاروں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ تاہم، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے نے ان ہلاکتوں کی اصل وجوہات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے نشانے پر صرف کالعدم ٹی ٹی پی کے وہ ٹھکانے ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں، لیکن رپورٹ میں انہیں ‘شہری ہلاکتیں’ اور ‘سول انفراسٹرکچر’ کا نقصان بتا کر عالمی برادری کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی خاموشی

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو کلپس اور ناقابلِ تردید شواہد واضح کرتے ہیں کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہ باقاعدہ منظم طریقے سے پاکستانی حدود میں ڈرون اور میزائل حملے کر رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، ان حملوں کا جواب دینا پاکستان کا قانونی اور بین الاقوامی حق ہے۔ او سی ایچ اے جیسی تنظیمیں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کے بجائے صرف جوابی کارروائیوں پر واویلا کر کے اپنے جانبدارانہ ہونے کا ثبوت دے رہی ہیں۔

انسانی ہمدردی کے نام پر سیاسی بیانیہ

رپورٹ میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں نقصانات کا ذکر تو کیا گیا ہے، لیکن یہ حقیقت چھپائی گئی ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کے مضبوط مراکز موجود ہیں جہاں سے وہ معصوم شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کو اس بات پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے کہ اس کی رپورٹس کس طرح دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہی ہیں اور ان میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے ثبوتوں کو کیوں جگہ نہیں دی جا رہی۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے بند نہیں ہوتے، وہ اپنی سلامتی اور قومی بقا کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ رپورٹنگ کے بجائے خطے میں دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے تعاون کریں

دیکھیے: بھارت-اسرائیل تعلقات اور پاکستان؛ خطے میں نئی سفارتی صف بندی جاری؟

متعلقہ مضامین

پکتیا کے سابق گورنر محمد حلیم فدائی کا افغانستان میں ہمہ گیر حکومت کا مطالبہ؛ طالبان کے نسلی اجارہ داری پر مبنی ڈھانچے اور غیر پشتون آبادی کو اقتدار سے باہر رکھنے پر عالمی تشویش میں اضافہ۔

May 4, 2026

افغان طالبان کی جانب سے انسانی ڈھال اور پروپیگنڈا کا خطرناک کھیل بے نقاب؛ کنڑ کے علاقے ڈانگام میں سویلین نقصانات کے من گھڑت دعووں کی آڑ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چھپانے کی مذموم کوشش۔

May 4, 2026

کراچی پولیس نے کم عمر لڑکی کو دہشت گردی کے جال سے بچا کر بی ایل اے کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا؛ مہرنگ اور شاری بلوچ کی ویڈیوز کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کی ذہن سازی کا انکشاف۔

May 4, 2026

طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی افغان لڑکی کی آپ بیتی؛ دہشت گردی کے زخموں سے لے کر تعلیمی پابندیوں تک، افغان خواتین کے مخدوش مستقبل پر ایک دردناک رپورٹ۔

May 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *