ذرائع کے مطابق گفتگو میں پاکستان–ترکی اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور دفاعی روابط پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

March 4, 2026

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,081 رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی نے 482 حملوں کی ذمہ داری لی جن میں 558 افراد ہلاک ہوئے، جو مجموعی اموات کا 52 فیصد بنتا ہے۔

March 3, 2026

وزیرِ خارجہ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس سے ایرانی قیادت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فریق کی جانب سے یہ یقین دہانی طلب کی گئی کہ سعودی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔

March 3, 2026

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔

March 3, 2026

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے کوئٹہ پریس کانفرنس میں بلوچستان کے امن کو مذہبی اتفاقِ رائے اور مؤثر حکمرانی سے جوڑتے ہوئے ‘فتنہ الخوارج’ کے خلاف مسلح افواج کی بھرپور حمایت اور افغانستان سے مداخلت روکنے کا مطالبہ کیا ہے

March 3, 2026

ایران اسرائیل تنازع کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے راستوں کی تبدیلی دنیا کو ایک نئی معاشی بدحالی کی طرف دھکیل رہی ہے

March 3, 2026

امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان میں انسانی حقوق پر رپورٹ – حکومتی مؤقف سامنے آ گیا

پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق رپورٹ کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقائق کو مسخ کرتی ہے،
پاکستان میں انسانی حقوق

پاکستان کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں سیکیورٹی خدشات اور اصلاحات کو نظرانداز کیا گیا، حساس علاقوں میں اقدامات دہشت گردی کے حقیقی خطرات کے تحت کیے جاتے ہیں۔

August 15, 2025

اسلام آباد — 12 اگست 2025 کو امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ جاری کی جس میں لاپتہ افراد، میڈیا پر پابندیوں، اقلیتوں کے حقوق اور لیبر قوانین پر تنقید کی گئی۔ پاکستانی ماہرین نے اس رپورٹ کو ’’جانبدارانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں نہ صرف ملک کے جائز سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کیا گیا ہے بلکہ اصلاحاتی اقدامات کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق انسانی حقوق کے بیانیے کو کمزور اور نازک ریاستوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا بھر میں جاری واضح اور سنگین بحرانوں جیسے فلسطین اور کشمیر پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ وہاں دہشت گردی کے واقعات میں اب تک سینکڑوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جانیں گنوا چکے ہیں۔ کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے اپنے شہریوں کی حفاظت پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ کئی کیسز ایسے ہیں جن میں افراد دہشت گرد نیٹ ورکس میں شامل ہو جاتے ہیں، جبکہ جائز مقدمات قانونی کمیشن کے تحت تحقیق کے مراحل میں ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ انسداد تشدد کے قوانین بھی موجود ہیں، عدالتی نگرانی کے ذریعے ان پر عملدرآمد ہوتا ہے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے زیادتیوں کے خاتمے کی کوشش جاری ہے۔ میڈیا کی آزادی برقرار ہے، عدالتوں نے متعدد بار حکومتی پابندیوں کو کالعدم قرار دیا اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے بتایا گیا کہ مسیحی اور سکھ شادی ایکٹس جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے پرعزم ہے۔ مذہبی قوانین قومی اتفاق رائے پر مبنی ہیں اور ان کا غلط استعمال قانون کے تحت قابل سزا ہے۔

محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیکٹری معائنوں میں اضافہ، یونین کی رسائی میں توسیع اور چائلڈ میرج کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔

پاکستان نے رپورٹ میں شامل بیرون ملک دباؤ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک کارروائیاں صرف عالمی سطح پر تسلیم شدہ دہشت گرد اہداف کے خلاف کی جاتی ہیں۔

مزید کہا گیا کہ پاکستان نے بغیر کسی معاہدے کے 23 لاکھ افغان مہاجرین کو دہائیوں تک پناہ دے کر ایک بے مثال انسانی خدمت انجام دی ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مثال ہے۔

دیکھیں: پاک بھارت تنازعے میں ٹرمپ کا کردار؛ امریکی وزارتِ خارجہ کی تصدیق

متعلقہ مضامین

ذرائع کے مطابق گفتگو میں پاکستان–ترکی اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور دفاعی روابط پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

March 4, 2026

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,081 رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی نے 482 حملوں کی ذمہ داری لی جن میں 558 افراد ہلاک ہوئے، جو مجموعی اموات کا 52 فیصد بنتا ہے۔

March 3, 2026

وزیرِ خارجہ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس سے ایرانی قیادت کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی فریق کی جانب سے یہ یقین دہانی طلب کی گئی کہ سعودی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہو۔

March 3, 2026

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ ایشیا کی بڑی معیشتیں اسی سمندری راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر یہ راہداری جزوی طور پر بھی متاثر ہوتی ہے تو اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دہلی، کراچی اور ڈھاکہ کے بازار بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔

March 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *