انٹیلی جنس پر مبنی حالیہ رپورٹس میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے بلوچ علیحدگی پسند رہنماء ہربیار مری کی سرگرمیوں پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سمیت پورے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں اور عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔
لندن میں ملاقات اور اس کا تناظر
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہربیار مری نے 25 جنوری 2025 کو لندن میں مبینہ طور پر موساد سے منسلک نمائندوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں بلوچ عسکریت پسندی، علاقائی شورشوں میں ہم آہنگی اور پاکستان، ایران اور چینی مفادات کو ہدف بنانے کی حکمت عملیوں پر گفتگو ہوئی۔
اگلے روز مری لندن میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ایک اجتماع میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے پاکستان اور ایران کے خلاف بلوچ۔ پشتون اتحاد کی اپیل کی اور بالخصوص چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے چینی حمایت یافتہ ترقیاتی منصوبوں کے خلاف مزاحمت پر زور دیا۔
لندن ملاقات کا مبینہ ایجنڈا
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) سے منسلک دھڑوں کے افراد سمیت بعض سینئر بلوچ عسکری شخصیات اور اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکار شریک تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایجنڈا درج ذیل چھ نکات پر مشتمل تھا:
مبینہ اہم مقاصد
- عسکریت اور اتحاد: منتشر بلوچ عسکری گروہوں کو ایک منظم اور متحد مسلح قوت میں تبدیل کرنا۔
- علاقائی ہم آہنگی: پاکستان اور ایران میں سرگرم سیکولر شورش پسند گروہوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا۔
- سفارتی و پروپیگنڈا مہمات: پاکستان، ایران اور چین کو عالمی فورمز پر “قابض قوتوں” کے طور پر پیش کرنا۔
- سی پیک کو ہدف بنانا: چینی منصوبوں کو استحصالی قرار دے کر عالمی مخالفت کو متحرک کرنا۔
- میڈیا اور نفسیاتی حکمت عملی: علیحدگی پسند بیانیے کو تقویت دینے کے لیے عالمی میڈیا نیٹ ورکس قائم کرنا۔
- بیرونی اتحاد: کرد اور احوازی عسکری دھڑوں کے ساتھ روابط مضبوط کرنا۔
ملاقات کے بعد کی پیش رفت
لندن ملاقات کے بعد کی ہفتوں میں مری نے مبینہ طور پر اپنے قریبی ساتھیوں کو ایران میں سرگرم عسکری رہنماؤں سے رابطے کی ہدایت کی۔ براس قیادت سے منسلک شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کی گئیں تاکہ مجوزہ حکمت عملی پر بریفنگ دی جا سکے۔ یہ امور فروری 2025 کے آخر میں ایران کے علاقے سرباز میں منعقدہ براس کانفرنس میں زیر غور آئے۔
پس منظر: 2023 کی ناکام اتحاد کوشش
یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچ عسکری دھڑوں کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ 2023 میں بھی ایک مبینہ منصوبہ سامنے آیا تھا، جسے بھارتی خفیہ ادارے را سے منسوب کیا گیا، تاہم اندرونی اختلافات، قیادت کی کشمکش اور باہمی بداعتمادی کے باعث وہ ناکام ہوگیا۔ قبائلی ساخت، مالی مسائل اور پاکستانی حکام کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو بھی ناکامی کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا۔
براس کانفرنس اور مبینہ فیصلے
پچس تا 27 فروری 2025 کو ایران میں منعقدہ تین روزہ براس اجلاس میں مختلف علیحدگی پسند دھڑوں کے نمائندوں نے مبینہ طور پر درج ذیل اقدامات پر اتفاق کیا:
- براس کو باضابطہ “بلوچ نیشنل آرمی” کے طور پر ازسرنو تشکیل دینا
- پاکستانی اور چینی مفادات کے خلاف حملوں میں شدت لانا
- میڈیا اور بین الاقوامی لابنگ میں وسعت
- دیگر علاقائی عسکری عناصر کے ساتھ ہم آہنگی مضبوط کرنا
تجزیاتی جائزہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ان پیش رفتوں کے باوجود بلوچ عسکری تحریکوں کو ساختی کمزوریوں کا سامنا ہے۔ قیادت کے اختلافات، متحدہ کمان کی عدم موجودگی اور قبائلی مفادات کی کشمکش اب بھی اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگرچہ محدود سطح پر تعاون بڑھ سکتا ہے، خصوصاً سرحد پار سرگرمیوں میں، تاہم مکمل طور پر متحد عسکری قوت کا قیام فی الحال غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔
تاہم سکیورٹی مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ جزوی ہم آہنگی بھی علاقائی عدم استحکام میں اضافہ، عسکری کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع اور جنوبی و مغربی ایشیا میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
نتیجہ
ہربیار مری غیر ملکی انٹیلی جنس عناصر اور مختلف عسکری اتحادوں کے درمیان مبینہ روابط خطے کے سکیورٹی منظرنامے میں موجود چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ کوششیں عملی سطح پر کس حد تک مؤثر ثابت ہوں گی، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ شورش پسند نیٹ ورکس، اطلاعاتی جنگ اور علاقائی عدم استحکام کے خطرات مسلسل ارتقا پذیر ہیں، جو علاقائی امن اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔