سابق وزیراعظم عمران خان، صیہونی لابی اور بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے گرد گھومتی حالیہ بحث نے اس وقت ایک نیا موڑ اختیار کر لیا جب سوشل میڈیا پر قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا ایک پرانا انٹرویو دوبارہ زیرِ گردش پایا گیا۔ اس انٹرویو میں وسیم اکرم ایک ایسے واقعے کا ذکر کرتے ہیں جہاں عمران خان انہیں ایک نجی طیارے کے ذریعے ایک دور افتادہ جزیرے پر لے گئے تھے، جسے اب مبصرین اور ناقدین ایپسٹین کے بدنام زمانہ جزیرے سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ عمران خان کے سابقہ سسرالی خاندان، گولڈ اسمتھ فیملی، کے جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات ریکارڈ کا حصہ ہیں، تاہم وسیم اکرم کے اس بیان کو سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے ان حلقوں سے پرانے مراسم رہے ہیں جو بین الاقوامی صیہونی لابی کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اور ان تعلقات کو محض چہ مگوئیاں قرار دے کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب، حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے حلقے اس کہانی میں موجود تضادات کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں۔ وسیم اکرم نے جس واقعے کا ذکر کیا وہ 1988 کے دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران پیش آیا تھا، جبکہ جیفری ایپسٹین نے اپنا بدنام زمانہ جزیرہ اس واقعے کے تقریباً ایک دہائی بعد یعنی 1998 میں خریدا تھا۔
مزید برآں، حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی “ایپسٹین فائلز” میں اگرچہ عمران خان کا تذکرہ موجود ہے، مگر وہ مثبت کے بجائے منفی رنگ میں ہے، جہاں ایپسٹین مبینہ طور پر عمران خان کو ایک “کٹر مذہبی شخصیت” قرار دے کر ان کی مخالفت کرتا نظر آتا ہے۔ تاہم،
عمران خان کے مخالفین اس موقف پر قائم ہیں کہ گولڈ اسمتھ فیملی اور ایپسٹین کے درمیان ثابت شدہ سماجی تعلقات اس پورے معاملے کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہیں، جس کی بنیاد پر اب یہ بحث ایوانوں سے نکل کر ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر ایک تہلکہ خیز رخ اختیار کر چکی ہے۔