عمران خان صاحب کو پمز میں لائے جانے پر بحث جاری ہے اور ہر پہلو کو کھنگال دیا گیا ہے لیکن ایک اہم ، بلکہ اہم ترین نکتہ ابھی تک نظر انداز ہو رہا ہے اور اس پر بات نہیں ہو رہی ۔ آئیے تصویر کے اس دوسرے امکانی رخ پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ میرے پاس اندر کی کوئی خبر نہیں ہوتی ، نہ ہی یہ میرا میدان ہے ۔ میں دستیاب خبروں پر تجزیے تک محدود رہتا ہوں اور تصویر کے اس دوسرے رخ کا تعلق بھی کسی اندر کی خبر سے نہیں ، دستیاب خبروں کے جائزے سے ہے۔
اس سارے عمل میں پہلا سوال یہ ہے کہ عمران خان کو پمز لانے اور علاج کروا کر واپس لے جانے والے، اگر واقعی اس بات کو راز رکھنا چاہتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ راز کی یہ بات لیک ہو پاتی؟
یہ پارلیمان میں ہونے والی سیاسی حرکیات کی خبر نہیں تھی کہ راہداریوں کی سرگوشیوں سے لیک ہو جاتی یا اہل سیاست میں سے خود کوئی اس خبر کو آگے پہنچا دیتا۔
یہ جیل کے ایک قیدی سے متعلقہ خبر تھی اور قیدی بھی ہائی پروفائل تھا ۔ اس کی سکیورٹی کا غیر معمولی انتظام کیا گیا ہے ۔ سیکیورٹی پر مامور عملہ اور ذمہ داران یقینا چھان بین کے بعد ہی تعینات کیے گئے ہوں گے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے متعلق کوئی خبر جسے راز رکھنا مقصود ہو ، لیک ہو جائے؟ یعنی سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیاصحافت اندر کی خبر تک پہنچی یا یہ خبر ہے جو صحافت تک پہنچی؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ایک ٹیسٹر ہو جس سے سماج کی ‘پلس’ چیک کی گئی ہو کہ اس خبر کا رد عمل کیا آتا ہے؟ تحریک انصاف کی قیادت کا ردعمل تو متوقع تھا۔ سوال اس کے رد عمل کا نہیں ہے۔ سوال تحریک انصاف کی قیادت کی کال پر سماج کے رد عمل کا تھا۔
تحریک انصاف کی لیڈر شپ نے وہی رد عمل دیا جس کی توقع تھی۔ یہ ظاہر ہے کہ فطری رد عمل تھا۔ عمران خان ان کے قائد ہیں اور ان کی صحت کے لیے تشویش میں مبتلا ہونا قابل فہم سی بات تھی۔ تحریک انصاف کی قیادت اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہوئی کہ ملاقات کرائی جائے لیکن ملاقات نہیں کروائی گئی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے باہر اکٹھی ہوئی لیکن بات نہیں بنی۔ کے پی کے وزیر اعلی سہیل آفریدی دونوں جگہ پر موجود تھے۔ ایک عام منادی تھی کہ لوگ باہر نکلیں۔ ملک بھر سے پارلیمنٹیرینز کو بلایا گیا کہ فوری پہنچیں۔ لیکن اس سب کے باوجود شرکاء کی تعداد محدود تر تھی۔ ایسانہیں تھا کہ ایک جمع غفیر اکٹھا ہو جاتا۔ جم غفیر تو دور کی بات ہے کوئی بڑا مجمع بھی دیکھنے بھی نہیں آیا۔
اس کا یقینا یہ مطلب نہیں کہ خان صاحب کی عصبیت موجود نہیں ۔ وہ تو بہر حال موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ کسی بڑے احتجاج میں بھی ڈھل سکتی ہے؟ یہ اگر واقعی ایک ٹیسٹر تھا اور اس سے سماج کی پلس چیک کرنا مقصود تو نتیجہ سامنے ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ چیک کرنا کیوں مقصود تھا؟ کیا اس کا تعلق مستقبل قریب میں کسی امکانی سزا کے سنائے جانے سے ہے اور اس سزا سے پہلے معاشرے کی نبض چیک کی جا رہی ہے؟ اس سوال پر غور کرنا اہل علم کا کام ہے، میں تو ایک طالب علم ہوں۔
مجھ جیسے طالب علم کی کوتاہ نظری سمجھ لیجیے لیکن مجھے یہ لگ رہا ہے کہ اصل نکتہ یہی ہے ، باقی فروعی باتیں ہیں کہ فیملی کو بتایا کیوں گیا اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے وغیرہ۔ خان صاحب کی اہلیہ بھی جیل میں ہی ہیں اور فیملی کی حقیقی تعریف میں ماں باپ کے بعد میاں بیوی ہی آتے ہیں۔ اگر اس میڈیکل چیک اپ پر خاں صاحب اور ان کی اہلیہ کو اعتماد میں لیا گیا ہے تو قانونی تقاضے تو پورے ہوچکے ہوں گے۔
زیادہ بہتر بے شک یہی ہوتا کہ علاج معالجے کا ان کی بہنوں کو بھی بتا دیا جاتا ، اس میں کوئی مضائقہ نہ ہوتا بلکہ یہ ایک اچھا اقدام ہوتا لیکن معاملہ اگر وہی ہے کہ اس اقدام سے پلس چک کرنا مقصود تھا کہ دیکھتے ہیں اس خبر کے بعد رد عمل کیا آتا ہے تو نہ بتانے کی صورت میں زیادہ رد عمل متوقع تھا۔
تو رد عمل کیا آیا ، وہ ہمارے سامنے ہے۔
اب اگر تحریک انصاف ، یعنی سہیل آفریدی ، رد عمل میں معاملات کو مزید بواءلنگ پوائنٹ کی طرف لے جاتے ہیں تو اس سے زیادہ نقصان کس کا ہوگا؟ یہ جاننے کے لیے کسی کا نہ آئن سٹائن ہونا ضروری ہے نہ ابن خلدون۔
سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟
پارٹی میں سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کو آگے آنا ہو گا۔ سیاست کو یوٹیوبرز کے اشتعال انگیز بیانیے کی بھینٹ نہ چڑھائیں ۔ آگے کھائی بھی ہو سکتی ہے۔
دیکھیے: پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات: شیخ وقاص اکرم کی آڈیو لیک، سہیل آفریدی کے دھرنے پر تنقید