ماہرین نے ایک مرتبہ پھر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کابل ایئرپورٹ کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان کو عسکری سازوسامان فراہم کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ سامان ہفتے میں ایک یا دو بار مسافر پروازوں کے کارگو کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل۔ دہلی کے مابین فضائی راستہ جو باضابطہ طور پر 2025 کے آخر میں تجارتی اور سفارتی تعلقات کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا، اب یہ اسلحہ فراہمی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اسی طرح تجارتی سامان کے بجائے بھاری مقدار میں اسلحہ بھیجا جا رہا ہے جو پاکستان میں کاروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے ماضی میں بھی بارہا مرتبہ یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ بھارت پڑوسی ممالک کی سرزمین کے ذریعے پاکستان میں بدامنی وعدمِ استحکام پھیلانے کی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دفترِ خارجہ پاکستان اور عسکری قیادت نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کے عناصر محض پناہ گزین ہیں بلکہ یہ عناصر پناہ گزین کی آڑ میں پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اکتوبر 2025 میں کہا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث 160 سے زائد افغان شہری مارے گئے اور ساتھ ہی بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ افغان زمین کو اڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق بھارت کی یہ سرگرمیاں خطے میں سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور ان کے خلاف بروقت اقدامات ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔