مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے۔ سوشل میڈیا اور بعض حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارتی فورسز نے کارروائی کے دوران کیمیائی مواد استعمال کیا اور بعد ازاں لاشوں کو جلا دیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مختلف مقامات پر احتجاجی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ کارروائی کے دوران غیر متناسب طاقت استعمال کی گئی۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا لاشوں کو جلانے جیسے الزامات بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
کشتواڑ اور دیگر حساس علاقوں میں پہلے بھی ایسے واقعات کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث انسانی حقوق اور شفاف احتساب کا مطالبہ مزید زور پکڑ لیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق زمینی حقائق کے تعین کے بغیر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔