بھارت کی سرپرستی میں چلنے والے پاکستان مخالف منظم گروہوں کے حوالے سے تازہ شواہد نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی اطلاعاتی جنگ میں منظم اجتماعی کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ تازہ ڈیجیٹل نشانات اور انکشافات نے متعدد ایسے اکاؤنٹس کو بے نقاب کیا ہے جو بظاہر بلوچ شناخت کے ساتھ سرگرم تھے مگر حقیقت میں بھارت اور دیگر ملکوں سے چلائے جا رہے تھے۔ ان اکاؤنٹس کا مقصد پاکستان اور بلوچستان کے بارے میں جھوٹے بیانیے، جعلی انسانی حقوق کی کہانیاں اور علیحدگی پسند پروپیگنڈا پھیلانا تھا۔
اسی نیٹ ورک کا ایک نمایاں نام میر یار بلوچ المعروف مزداک دلشاد بلوچ ہے، جو کینیڈا میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ کبھی بھارتی میڈیا پر آ کر پاکستان مخالف بیانیہ دہراتا ہے اور کبھی بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے کا سوشل میڈیا چلاتا ہے۔ 2016 اور 2017 میں وہ گجرات کے شہر وڈودرا بھی گیا تھا، جہاں اسے ایک “فریڈم ایکٹوسٹ” کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسی دوران اس نے مودی کی بلوچستان سے متعلق بیان بازی کو نہ صرف کھل کر سراہا بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ پوری بلوچ قوم طویل عرصے سے بھارت کی مداخلت کی خواہش رکھتی ہے۔ اس نوعیت کے بیانات نے اس کے بھارتی سرپرستی میں شامل ہونے کے شواہد مزید واضح کر دیے۔
Several so-called Baloch activists turned out to be Indians. pic.twitter.com/y6QGQ71kRf
— MD Umair Khan (@MDUmairKh) November 23, 2025
اس کے ساتھ ساتھ جنید بلوچ نے جب ایکس پر موجود کئی بھارتی اکاؤنٹس کی پول کھولی تو متعدد اکاؤنٹس نے گھبرا کر اپنی لوکیشن سیٹنگ تبدیل کرنے کی کوشش کی، مگر ایکس نے ان تبدیلیوں کو فلیگ کر کے ان کی اصل شناخت ظاہر کر دی۔ اسی طرح دختر بلوچستان کے اکاؤنٹ نے بھی کئی بھارتی اکاؤنٹس کو بے نقاب کیا، تاہم ان کی اپنی شناخت مخفی ہونے کے باعث ان کی کوششیں محدود اثر رکھتی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کا مقدمہ مضبوطی سے لڑنا ہے تو کھلی شناخت کے ساتھ سامنے آ کر حقائق پیش کیے جائیں تاکہ پروپیگنڈا نیٹ ورکس کو موثر جواب دیا جا سکے۔
مزید انکشافات میں سامنے آیا ہے کہ زیربحث اکاؤنٹس میں سے تقریباً 90 فیصد وہ تھے جو بنیادی طور پر بھارتی شہری چلا رہے تھے مگر انہیں بلوچ شناخت دے کر آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ دی بلوچستان پوسٹ نامی پلیٹ فارم، جو خود کو بلوچ میڈیا ادارہ ظاہر کرتا رہا، دراصل دہلی سے چلایا جا رہا تھا اور مسلسل پاکستان مخالف مواد تخلیق و پھیلانے میں سرگرم تھا۔
🚨بریکنگ : اس تھریڈ میں ان تمام اکاؤنٹس کا ڈیٹا لگا رہا ہوں 🧵
— Junaid Baloch (@kalmatiJD) November 23, 2025
جو اصل میں انڈین تھے لیکن بلوچ بنے ہوئے تھے
90 فیصد بلوچ اکاؤنٹس انڈینز چلارہے تھے
اور ایکس کی نئی اپڈیٹ نے ایسے تمام اکاؤنٹس کو ایکسپوز کردیا ہے👇 pic.twitter.com/h5gfhTNl9u
دوسری جانب ماہرنگ بلوچ کا اکاؤنٹ سنگاپور سے آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو اس بات کی مزید مثال ہے کہ بیرون طاقتیں کس طرح جعلی شناختوں کا سہارا لے کر پاکستان کے اندرونی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ تمام شواہد اس منظم حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں جعلی بلوچ شناختوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس نیٹ ورک کا مقصد نہ صرف جھوٹے بیانیے پھیلانا ہے بلکہ داخلی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان کے عوام کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ان بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورکس کے پیچھے کیا عزائم کارفرما ہیں اور کیوں ان کے ناموں کا غلط استعمال کر کے ان کے بچوں اور نوجوانوں کو نفرت اور گمراہ کن بیانیوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
دیکھیں: افغانستان میں عدم استحکام یا رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں، واحد مطالبہ دراندازی روکنا ہے؛ پاکستان