بھارتی میڈیا ایک بار پھر بے بنیاد پروپیگنڈے کے الزامات کی زد میں ہے، جب دہلی دھماکے کے مبینہ مشتبہ شخص کی جعلی اور اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی ویڈیو نشر کی گئی۔
देशहित : आतंकी की प्रॉपर्टी पर योगी का बुलडोजर ?#Deshhit #CMYogi #DelhiCarBlast #ATS | @anuraagmuskaan pic.twitter.com/s9AhjQtQ6d
— Zee News (@ZeeNews) November 19, 2025
اس ویڈیو کو بھارتی میڈیا نے ایسے پیش کیا جیسے مشتبہ شخص خودکش حملوں کی تعریف کر رہا ہو، لیکن فرانزک ماہرین نے واضح کر دیا کہ یہ ویڈیو نہ صرف ڈب کی گئی ہے بلکہ اس میں واضح ایڈیٹنگ، کاٹ جوڑ اور مصنوعی آواز استعمال کی گئی ہے۔ ویڈیو کا نہ کوئی باقاعدہ آغاز ہے اور نہ اختتام، جبکہ ہونٹوں کی حرکات، جسمانی زاویے اور آڈیو ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کوئی شخص خود کیوں ایسی ویڈیو ریکارڈ کرے گا جو اسے براہِ راست جرم سے جوڑ دے؟ یہ بات ویڈیو کے مقصد اور اس کی اصلیت دونوں پر سنگین سوال اٹھاتی ہے۔
فرانزک رپورٹوں نے بھارتی میڈیا کے اس رویے پر مزید شکوک کو تقویت دی ہے، جو اس سے قبل بھی سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے تحت مبالغہ آمیز یا جعلی ویڈیوز نشر کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ ویڈیو دراصل ایک بڑے بیانیے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو دہشتگرد ثابت کیا جا رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی کریک ڈاؤن کو جواز مل سکے۔ بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات خود میڈیا کو بغیر تصدیق کے مواد نشر نہ کرنے کی ہدایت دے چکی ہے، مگر عملی طور پر ایسے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ فیک نیوز ایک مؤثر سیاسی ہتھیار بنا دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی یہ جعلی ویڈیوز نہ صرف اسلاموفوبیا کو بڑھاتی ہیں بلکہ کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو بھی بدنام کر کے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرتی ہیں۔
ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ویڈیو کو ثبوت کے طور پر قبول کرنے سے قبل مکمل فرانزک جانچ ضروری ہے، ورنہ ناظرین اور ادارے خود غلط معلومات کی مہم کا حصہ بن جائیں گے۔
دیکھیں: پاکستانی ریپر طلحہ انجم بھارتی پرچم لہرانے پر تنقید کی زد میں