اسلام آباد: ذرائع کے مطابق بھارتی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک نیٹ ورک اجمل سہیل کو ’’سیکیورٹی تجزیہ کار‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجمل سہیل دراصل افغان لبرل پارٹی کے بانی ہیں جسے بعض حلقے موساد سے منسلک سیاسی پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی صحافی سدھا رام چندرن نے جریدے دی ڈپلومیٹ کے لیے اجمل سہیل کا انٹرویو کیا۔ اس میں انہوں نے آئی ایس آئی، چین اور داعش خراسان (ISKP) سے متعلق تبصرہ کیا۔
تاہم رپورٹ میں یہ اہم حقیقت شامل نہیں کی گئی کہ اجمل سہیل افغان لبرل پارٹی کے بانی بھی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس جماعت کو افغانستان میں اسرائیلی اثر و رسوخ کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پس منظر کو چھپانا قارئین کو تجزیے کے اصل زاویے سے بے خبر رکھتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجمل سہیل نے 2013 میں اسرائیلی ادارے اسرائیل انسٹی ٹیوٹ فار ریجنل فارن پالیسیز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا:
“اسرائیل افغانستان کا دشمن نہیں۔ افغانستان اسرائیل کے ساتھ تجارت کا مخالف نہیں۔ دونوں کو یہ عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھانا چاہیے۔”
اسی انٹرویو میں انہوں نے فلسطین۔اسرائیل تنازع پر کہا:
“یہ تنازع زیادہ تر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کا مسئلہ ہے۔ اس کا افغانستان پر براہ راست جغرافیائی یا معاشی اثر نہیں پڑتا۔”
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان میں کچھ حلقے اسرائیل کو ممکنہ اتحادی سمجھتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق بعض بھارتی حلقوں کی جانب سے اجمل سہیل کو بطور سیکیورٹی تجزیہ کار پیش کرنا ایک منظم معلوماتی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کے خلاف بیانیہ تشکیل دینا بتایا جا رہا ہے۔
میڈیا مبصرین کے مطابق جب خطے کی حساس سیاست، خفیہ اداروں اور شدت پسند تنظیموں جیسے موضوعات زیر بحث ہوں تو ذرائع کے پس منظر کو واضح کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بصورت دیگر قاری کے لئے پیش کیا گیا تجزیہ مکمل تناظر میں سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادارتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ کسی بھی مبصر کی سیاسی یا نظریاتی وابستگی کو واضح کیا جائے۔ اس سے قارئین کو معلومات کو درست تناظر میں پرکھنے میں مدد ملتی ہے۔
دیکھئیے:امریکی صدر کی دھمکی کے بعد اسرائیل نے تہران میں تیل کی اہم تنصیبات پر بڑے حملے کر دیے