"> بھارت کی آبی جارحیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام: علاقائی استحکام کے لیے شدید خطرہ قرار

ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت کی جانب سے 2025 میں سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان کی آبی سلامتی پر وار ہے۔
ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت کی جانب سے 2025 میں سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان کی آبی سلامتی پر وار ہے۔

تاریخی جنگوں میں برقرار رہنے والا سندھ طاس معاہدہ بھارتی ہٹ دھرمی کی ہدف بن گیا۔ نئی دہلی کے غیر قانونی اقدام کے خلاف پاکستان نے عالمی فورمز پر قانونی محاذ سنبھال لیا ہے۔

May 23, 2026

جنوبی ایشیا میں سرحد پار آبی انتظام اور علاقائی استحکام کے ضامن سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی حکومت کے حالیہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات نے بین الاقوامی قوانین اور خطے کی آبی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید ترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہندوتوا نظریے سے متاثر موجودہ بھارتی قیادت کی جانب سے سن 2025 میں اس تاریخی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بے مثال اور اچھوتا اقدام سفارتی روایات اور دہائیوں سے قائم بین الاقوامی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تاریخی پس منظر کے لحاظ سے سندھ طاس معاہدہ غیر معمولی پائیداری اور مضبوطی کا حامل رہا ہے۔ یہ معاہدہ پاک بھارت کے مابین 1965 اور 1971 کی بڑی جنگوں اور 1999 کے کارگل جیسے سنگین فوجی تصادم کے باوجود کامیابی سے برقرار رہا۔ مشکل ترین جیو پولیٹیکل حالات میں بھی اس کا فعال رہنا اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور تکنیکی کوآرڈینیشن کا ایک ناگزیر اور مستحکم ادارہ جاتی فریم ورک ہے۔ تاہم، نئی دہلی کی موجودہ قیادت نے اس تاریخی تسلسل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے عالمی نظام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول یعنی ‘معاہدوں کی پاسداری ہر حال میں لازم ہے’ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس یکطرفہ فیصلے نے سرحد پار دریاؤں کے انتظام، تکنیکی ہم آہنگی اور تنازعات کے حل کے لیے قائم طویل مدتی ادارہ جاتی میکانزم کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پورے سندھ طاس بیسن میں قانونی اور ہائیڈرولوجیکل غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بھارت کا یہ رویہ نہ صرف اس کی اپنی عالمی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر معاہدوں کی انتخابی تعمیل کی ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔

بھارتی یکطرفہ پسندی اور ہٹ دھرمی کے برعکس، پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور عالمی قوانین کے عین مطابق رہا ہے۔ پاکستان نے معاہدے کی تمام شقوں پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا ہے اور غیر جانبدار ثالثی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جس نے عالمی برادری کی نظروں میں پاکستان کے قانونی اور اخلاقی مؤقف کی لاج رکھ لی ہے۔

اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی اس آبی جارحیت کے براہِ راست اور ہولناک اثرات پاکستان کی ڈاون اسٹریم زراعت، توانائی کی سلامتی اور مجموعی انسانی تحفظ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پانی کے بہاؤ میں جان بوجھ کر پیدا کی جانے والی رکاوٹیں پاکستان کی غذائی اور معاشی سیکیورٹی کو نشانہ بنانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اپنے اس رویے سے بھارت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ سرحد پار دریاؤں کے عالمی کثیر الجہتی فریم ورکس کو کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام قانونی، تکنیکی اور سفارتی چینلز کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ پاکستان کی یہ پائیدار اور قانون پسندانہ حکمتِ عملی نہ صرف اس کے اپنے حقوق کا دفاع کرتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں معاہدوں پر مبنی طرزِ حکومت کی پابند نوعیت کو بھی زندہ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے اس خطرناک اور یکطرفہ طرزِ عمل کا نوٹس لے جو عالمی امن اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *