آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی و سماجی حلقوں اور باشعور عوام میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ خطے میں سرگرم بعض نام نہاد تحریکیں اور گروہ عوامی حقوق کی آڑ میں دراصل ایک منظم بیرونی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان عناصر کی جانب سے ہر مقامی یا انتظامی مسئلے کو جان بوجھ کر اشتعال، نفرت اور ریاست مخالف بیانیے میں تبدیل کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کا واحد مقصد خطے کے دیرپا امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔
غیر ملکی فنڈنگی
ذرائع اور اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کے مطابق، ان نام نہاد رہنماؤں کی سیاست کا محور عوامی خدمت یا کشمیریوں کے مسائل کا حل ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ بیرون ملک بیٹھے اپنے پرانے آقاؤں کی خوشنودی اور خطیر غیر ملکی فنڈنگ کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے عوام کو معاشی ریلیف دینے، انتظامی اصلاحات نافذ کرنے یا ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے خطے میں استحکام لانے کی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے، تو یہ عناصر فوراً سڑکوں پر نکل کر عام شہریوں کو اشتعال دلاتے ہیں اور بدامنی کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ محض اتفاقی احتجاج نہیں، بلکہ بیرونی اشاروں پر کھیلا جانے والا ایک منظم سیاسی کھیل ہے۔
عوامی استحصال
رپورٹس کے مطابق، ان جعلی انقلابیوں کا اصل چہرہ اب عوام کے سامنے آ چکا ہے جو کشمیریوں کے دکھوں اور محرومیوں کو اپنے مادی فائدے اور غیر ملکی فنڈنگ کے دروازے کھولنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جو قیادت اپنے فیصلے مقامی عوام کی خواہشات کے بجائے بیرون ملک مقیم آقاؤں کی ہدایات پر کرے، وہ کبھی بھی عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں ہو سکتی۔ نعروں اور دعووں کے پیچھے چھپے ہوئے ان بیرونی مفادات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تحریکیں عوامی نہیں بلکہ خالصتاً بیرونی قوتوں کی سہولت کاری کا ذریعہ ہیں۔
مخصوص چہرے
حالیہ مہمات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ریاست کا امن اور استحکام ان بیرونی دشمنوں کو کھٹکتا ہے، اسی لیے ان کے یہ مقامی مہرے ہر وقت آگ اور انتشار کی سیاست کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے غیور عوام اب اس سچائی کو پا چکے ہیں کہ حقوق کے نام پر اٹھنے والی ہر آواز مخلص نہیں ہوتی۔ ہر احتجاج کے پیچھے ایک ہی مخصوص طبقہ، مخصوص چہرے اور ایک ہی طے شدہ بیرونی بیانیہ اب واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سیاست اور عوام کا فیصلہ
سیاسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ، مسلسل اشتعال انگیزی اور بیرونی امداد پر انحصار کسی عوامی تحریک کی نہیں بلکہ ایک منظم پراکسی سیاست کی علامات ہیں۔ عوام کے جائز مسائل کو حل کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا اور انہیں سڑکوں پر لا کر روزگار، تعلیم اور معیشت کو مفلوج کرنا اصل میں بیرونی مفادات کی وفادارانہ خدمت ہے، جسے اب مزید عوامی خدمت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ آزاد کشمیر کے غیور شہری اب ان عناصر کے بہکاوے میں آنے کے بجائے امن، ترقی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے مستقبل کو بیرونی سیاست کا ایندھن بنانے کی ہر سازش کو ناکام بنا رہے ہیں۔