پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت شدید اندرونی تقسیم اور اقتدار کی کشمکش کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کے اندر متعدد پاور سینٹرز ابھر آئے ہیں، جن کے درمیان قیادت، بیانیے اور حکمتِ عملی پر واضح اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
ایک طرف وہ کور گروپ ہے جو جیل میں موجود بانی سے منسوب ہدایات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب پارلیمانی سیاست اور خیبر پختونخوا حکومت چلانے والی قیادت عملی اور مفاہمتی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے۔
پارٹی کے اندر علیمہ خان سے منسوب حلقہ نظریاتی اور مزاحمتی بیانیے پر زور دیتا ہے، جب کہ علی امین گنڈاپور کی صوبائی حکومت انتظامی تقاضوں کے تحت الگ ترجیحات رکھتی نظر آتی ہے۔
اسی طرح پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پارلیمانی دھڑا آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنے کا حامی ہے۔ ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔