ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

February 26, 2026

تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں علیمہ خان کی مداخلت اور خود ساختہ قیادت کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، جس سے پارٹی نظم و ضبط متاثر ہونے کا خدشہ ہے

February 26, 2026

چیک پوسٹس پر تعینات سیکیورٹی اہلکار عوامی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سنگین خطرات اور سماجی ملامت کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر فرائض انجام دے رہے ہیں

February 26, 2026

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی میں جاری شدید کھینچا تانی اور تنظیمی مسائل کے باعث عمران خان خود فعال قیادت کرنے سے گریز کر رہے ہیں

February 26, 2026

معروف یوٹیوبر عمران ریاض خان پر ڈالرز کی خاطر جھوٹا بیانیہ فروخت کرنے اور صحافتی لبادے میں ذاتی مفادات حاصل کرنے کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی

February 26, 2026

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے انکار کو عالمی ماہرین نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس افغانستان میں 20 سے زائد شدت پسند تنظیموں کی نشاندہی کر رہی ہیں

February 26, 2026

قیادت کا خلا یا اختیار کی کشمکش؟ پی ٹی آئی کا اندرونی بحران شدت اختیار کر گیا

ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔
قیادت کا خلا یا اختیار کی کشمکش؟ پی ٹی آئی کا اندرونی بحران شدت اختیار کر گیا

پارٹی کے اندر علیمہ خان سے منسوب حلقہ نظریاتی اور مزاحمتی بیانیے پر زور دیتا ہے، جب کہ علی امین گنڈاپور کی صوبائی حکومت انتظامی تقاضوں کے تحت الگ ترجیحات رکھتی نظر آتی ہے۔

February 26, 2026

پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت شدید اندرونی تقسیم اور اقتدار کی کشمکش کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کے اندر متعدد پاور سینٹرز ابھر آئے ہیں، جن کے درمیان قیادت، بیانیے اور حکمتِ عملی پر واضح اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

ایک طرف وہ کور گروپ ہے جو جیل میں موجود بانی سے منسوب ہدایات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب پارلیمانی سیاست اور خیبر پختونخوا حکومت چلانے والی قیادت عملی اور مفاہمتی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے۔

پارٹی کے اندر علیمہ خان سے منسوب حلقہ نظریاتی اور مزاحمتی بیانیے پر زور دیتا ہے، جب کہ علی امین گنڈاپور کی صوبائی حکومت انتظامی تقاضوں کے تحت الگ ترجیحات رکھتی نظر آتی ہے۔

اسی طرح پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پارلیمانی دھڑا آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنے کا حامی ہے۔ ان مختلف زاویوں اور متضاد بیانات کے باعث کارکنان کنفیوژن کا شکار ہیں اور ایک واضح سمت کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر پارٹی اندرونی اختلافات پر قابو نہ پا سکی تو یہ مرحلہ وار بکھراؤ اس کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں علیمہ خان کی مداخلت اور خود ساختہ قیادت کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، جس سے پارٹی نظم و ضبط متاثر ہونے کا خدشہ ہے

February 26, 2026

چیک پوسٹس پر تعینات سیکیورٹی اہلکار عوامی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سنگین خطرات اور سماجی ملامت کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر فرائض انجام دے رہے ہیں

February 26, 2026

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی میں جاری شدید کھینچا تانی اور تنظیمی مسائل کے باعث عمران خان خود فعال قیادت کرنے سے گریز کر رہے ہیں

February 26, 2026

معروف یوٹیوبر عمران ریاض خان پر ڈالرز کی خاطر جھوٹا بیانیہ فروخت کرنے اور صحافتی لبادے میں ذاتی مفادات حاصل کرنے کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی

February 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *