سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں معروف یوٹیوبر اور متنازع بیانیہ ساز عمران ریاض خان کے خلاف ایک نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں ان پر ڈالرز کے عوض جھوٹ فروخت کرنے اور صحافتی اخلاقیات کو پسِ پشت ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ٹویٹر اور دیگر پلیٹ فارمز پر #گیلا_تیتر کے ہیش ٹیگ کے ساتھ صارفین ان کے بدلتے ہوئے لہجے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران ریاض کی ‘دکان’ اب ٹھنڈی پڑتی دکھائی دے رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ توجہ حاصل کرنے کے لیے گھٹیا پن اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کے مطابق عزت اور شہرت ہر کسی کو راس نہیں آتی اور جو لوگ عوام کے دم پر سر پر بیٹھتے ہیں، عوام انہیں زمین پر پٹخنے کا ہنر بھی بخوبی جانتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران ریاض کا حالیہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے یوٹیوب چینل کی ریٹنگ اور ڈالرز کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ مخصوص ایجنڈے کے تحت انتشار پھیلاتے ہیں تاکہ غیر ملکی کرنسی میں مالی فائدہ حاصل کر سکیں، جبکہ زمینی حقائق اور صحافتی ذمہ داریوں سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں رہا۔
سوشل میڈیا پر جاری اس مہم میں صارفین عمران ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ انسان کو اپنی ‘اوقات’ اور حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی کی گئی عمارت جلد یا بدیر زمین بوس ہو جاتی ہے۔
دیکھیے: مودی کا دورہ اسرائیل اور پاکستان کی سکیورٹی پر اس کے اثرات