دنیا کی تاریخ میں مذاہب نے ہمیشہ انسانیت کو جوڑنے کا پیغام دیا ہے، مگر افسوس کہ طاقت اور سیاست کے کھیل میں اکثر انہی مذاہب کو نفرت اور تعصب کا ہتھیار بنا دیا جاتا ہے۔ آج جب دنیا اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منا رہی ہے تو یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو اسلام کو خوف اور تشدد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں، حالانکہ اسلام کی بنیاد ہی امن، رواداری اور عدل پر رکھی گئی ہے۔
اسلام کا لفظ ہی سلامتی اور امن سے نکلا ہے۔ قرآنِ کریم نے انسانیت کو یہ اصول دیا کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ مگر بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں میں اسلام کو منظم انداز میں ایک ایسے مذہب کے طور پر پیش کیا گیا جسے گویا دنیا کے امن کیلئے خطرہ قرار دیا جا سکے۔ یہی بیانیہ آج اسلاموفوبیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
آج اسلام اور اسلامی دنیا کو چاروں سمتوں سے نفرت، تعصب اور اشتعال انگیز بیانیوں نے گھیر رکھا ہے۔ دہشت گردی کے الزامات کی آڑ میں پوری امتِ مسلمہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ امت کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ اس تلخ حقیقت کا اندازہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے ایران پر حملوں کا جواز یہ پیش کیا کہ انہیں خدشہ تھا ایران حملہ کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر مسلمان کب تک محض اندیشوں، خدشات اور قیاس آرائیوں کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟ عالمی سیاست کا یہ دوہرا معیار نہ صرف انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرناک ہے۔
یہ مسئلہ محض نظری بحث نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ حالیہ برسوں میں یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مساجد پر حملے، مسلم خواتین کے حجاب کو نشانہ بنانا اور مسلمانوں کو سیاسی بحثوں میں خطرے کے طور پر پیش کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت دراصل نسل پرستی اور اجنبیوں سے نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحان سے جڑی ہوئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلاموفوبیا کا موجودہ بیانیہ اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں گزشتہ دو دہائیوں میں پھیلنے والی اس مہم میں ہیں جو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعدشروع ہوئی۔ اس واقعے کے ذمہ دار چند افراد تھے مگر اس کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا جانے لگا۔ مغربی میڈیا اور سیاست نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسی مہم چلائی جس نے مغرب دنیا کے لوگوں میں اسلام نفرت کا ناقابل تلافی بیج بو دیا، اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کا ایک منظم رجحان پیدا کیا گیا۔ جبکہ دہشتگردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں مگر آج دنیا کے ہر کونے میں موجود مسلمان بے قصور ہونے کے باوجود اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ مسلم خواتین کو اکثر میڈیا میں غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے، انہیں مذہبی جبر کی علامت بنا کر دکھایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں زیادہ مخالفت اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے۔
بدقسمتی سے عالمی سیاست میں بھی اسلاموفوبیا ایک طاقتور ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔ جب کسی جنگ کو جواز دینا ہو یا کسی ملک کے خلاف سخت اقدامات کو درست ثابت کرنا ہو تو اسلام اور مسلمانوں کو خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ فلسطین میں جاری تباہی اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں ایک پوری قوم کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ غزہ کے ملبے تلے دبے بچوں اور تباہ شدہ مساجد کی تصویریں صرف جنگ کا منظر نہیں بلکہ اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ عالمی ضمیر کہیں نہ کہیں خاموش ہو چکا ہے۔
اسی طرح شام، لبنان اور حالیہ ایران سے متعلق کشیدگی میں بھی مسلمانوں کو اکثر عالمی سیاست کے نشانے پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ اسلاموفوبیا صرف سماجی تعصب نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ بھی ہے جسے عالمی طاقتوں کی حکمت عملی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اسلام کے بارے میں یہ منفی تصور حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اسلامی تہذیب کی تاریخ علم، برداشت اور انصاف کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اندلس کی جامعات ہوں یا بغداد کے علمی مراکز، مسلمانوں نے ہمیشہ علم اور تہذیب کو فروغ دیا۔ برطانوی مفکر رونیمیڈ ٹرسٹ نے اپنی معروف رپورٹ “Islamophobia: A Challenge for Us All” میں لکھا کہ اسلام ایک زندہ اور متحرک مذہب ہے جو ترقی اور تبدیلی کو قبول کرتا ہے، مگر اسے غلط انداز میں پیش کر کے خوف اور نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے۔
اسلاموفوبیا کی جڑ دراصل لاعلمی اور سیاسی مفادات میں ہے۔ جب میڈیا اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتا ہے، تو معاشروں میں نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس مسئلے کا حل مکالمے، تعلیم اور سچائی کے اظہارمیں دیکھتے ہیں۔ مغربی دنیا کے دانشوروں کے ساتھ کھلا مکالمہ، اسلام کی اصل تعلیمات کو اجاگر کرنا اور جہاد اور دہشت گردی کے درمیان واضح فرق بیان کرنا اس مسئلے کے حل کا اہم راستہ ہو سکتا ہے۔
مسلمان دنیا کیلئے بھی یہ لمحہ فکر ہے۔ انہیں اپنے کردار، علم اور اخلاق کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسلام واقعی امن اور انسانیت کا مذہب ہے۔ کیونکہ نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ سچائی اور حکمت سے دیا جا سکتا ہے۔
آج جب اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے تو یہ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک آزمائش ہے۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور رواداری کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی مذہب کو نفرت کا عنوان بنایا جا سکتا ہے۔ چند افراد کے جرائم کو بنیاد بنا کر ایک پوری تہذیب، ایک ارب سے زیادہ انسانوں اور ایک مذہب کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ دینا تاریخ، عقل اور انصاف تینوں کے خلاف ہے۔
یہ حقیقت بھی دنیا کو سمجھنا ہوگی کہ نفرت کے بیج ہمیشہ تباہی ہی کو جنم دیتے ہیں۔ اگر آج اسلاموفوبیا کو نظر انداز کیا گیا تو کل یہی تعصب کسی اور مذہب، قوم یا تہذیب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری تعصب کے اس زہر کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے، میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور سیاسی قیادت نفرت کے بجائے مکالمے اور انصاف کو فروغ دے۔
دنیا کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ نفرت کی سیاست کے ساتھ کھڑی ہوگی یا انسانیت کے ساتھ
دیکھئیے:عالم اسلام کے نامور علما کی کمیٹی فیصلہ کرے پاکستان کے خلاف حملے جائز ہیں یا نہیں؛ علامہ طاہر اشرفی