مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

عالم اسلام کے نامور علما کی کمیٹی فیصلہ کرے پاکستان کے خلاف حملے جائز ہیں یا نہیں؛ علامہ طاہر اشرفی

افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں صرف مساجد کے اندر ہونے والے حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، اگر پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستان اپنی حفاظت کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے؛ علامہ طاہر اشرفی
عالم اسلام کے نامور علما کی کمیٹی فیصلہ کرے پاکستان کے خلاف حملے جائز ہیں یا نہیں؛ علامہ طاہر اشرفی

انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ واضح اعلان کریں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے سزا دی جائے گی۔

March 15, 2026

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور معروف مذہبی رہنما حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عالم اسلام کے نامور علما پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی جائے جو یہ فیصلہ کرے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والے حملے شرعی، اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جائز ہیں یا نہیں۔

اتوار کو جاری بیان میں طاہر اشرفی نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے افغانستان کے موجودہ نظام سے وابستہ بعض علمی اور دینی شخصیات سوشل میڈیا پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر اظہارِ خیال کر رہی ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں پہل کس جانب سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر بے گناہ شہریوں اور بچوں کی قربانیوں کا ذکر کیا جائے تو پاکستان میں دہشتگردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں سکولوں اور تعلیمی اداروں تک کو نشانہ بنایا گیا، جس کے زخم آج بھی پاکستانی معاشرے میں تازہ ہیں۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ وہ نہ صرف سابق افغان حکومتوں کے ادوار بلکہ موجودہ صورتحال کا بھی حوالہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان میں مساجد کے اندر ہونے والے حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، جبکہ اس میں عوامی مقامات، فوج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر ہونے والے حملے شامل نہیں کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے دوست ممالک جیسے قطر، چین، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے بھی متعدد بار رابطے کیے، مگر اس کے باوجود کابل، جلال آباد اور قندھار سے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات سامنے آتے رہے۔

طاہر اشرفی نے افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت ایسے عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کے علما کی جانب سے تقریباً ایک ہزار علما پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، تاہم سوال یہ ہے کہ آیا افغان عبوری حکومت نے اس اعلامیے پر عملدرآمد کیا یا نہیں۔ ان کے مطابق اگر اس پر عمل نہیں کیا گیا تو خطے میں کشیدگی کب تک جاری رہے گی۔

طاہر اشرفی نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجود بعض عناصر بھارت اور اسرائیل کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغانستان کی حکومت، اس کی سرزمین یا وسائل سے کوئی غرض نہیں اور پاکستان افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ واضح اعلان کریں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے سزا دی جائے گی۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ اگر خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے تو مکہ مکرمہ میں عالم اسلام کے علما کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے جہاں قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا فیصلہ کیا جائے۔ ان کے مطابق علما کی ایسی کمیٹی اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی شرعی، اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جائز ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو ملک اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ طاہر اشرفی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے اور خطے میں امن و استحکام قائم ہو۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *