اقرار الحسن ایک معروف ٹی وی اینکر اور تفتیشی صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شناخت طاقتور حلقوں، ادارہ جاتی بدعنوانی اور سماجی ناانصافی کے خلاف بے باک رپورٹنگ سے بنی۔ اسی عوامی مقبولیت کو بنیاد بنا کر انہوں نے عوام راج پارٹی کے نام سے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام پاکستان میں صحافت اور سیاست کے باہمی تعلق کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہے، جہاں سوال اٹھانے والا خود جواب دہی کے نظام کا حصہ بننے کا دعوی کر رہا ہے۔
عوام راج پارٹی کے قیام کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف یہ ردعمل کی سیاست ہے، جو موجودہ سیاسی اشرافیہ، موروثی سیاست اور کرپشن کے خلاف عوامی غصے کا اظہار بن کر سامنے آئی ہے۔ اقرار الحسن کا بیانیہ عام آدمی کی محرومی، انصاف کی عدم دستیابی اور طاقتور طبقات کی جوابدہی کے گرد گھومتا ہے۔ دوسری طرف یہ شہرت سے سیاست تک کا سفر ہے۔ اقرار الحسن کی مقبولیت میڈیا کے ذریعے بنی، سیاست کے ذریعے نہیں۔ اسی لیے یہ سوال فطری ہے کہ آیا یہ قدم ایک منظم نظریاتی تحریک کی ابتدا ہے یا عوامی مقبولیت کو سیاسی طاقت میں ڈھالنے کی کوشش۔
عوام راج پارٹی کے بیانیے میں کچھ واضح مثبت پہلو موجود ہیں۔ یہ اسٹیٹس کو کے خلاف نعرہ بازی کے بجائے ایلیٹ کے طاقت کے غلط استعمال کو نشانہ بناتی ہے، جو ایک نسبتاً محتاط اور ذمہ دار سیاسی حکمت عملی ہے۔ پارٹی کی زبان سادہ اور عام فہم ہے، جو متوسط اور نچلے طبقے تک رسائی کو ممکن بناتی ہے۔ احتساب، پولیس اصلاحات اور شہری حقوق جیسے موضوعات پارٹی کے مرکزی نکات میں شامل ہیں۔
تاہم کمزوریاں بھی اتنی ہی نمایاں ہیں۔ اب تک عوام راج پارٹی کے پاس معیشت، خارجہ پالیسی، صوبائی خودمختاری اور سول ملٹری تعلقات جیسے بنیادی سوالات پر کوئی جامع اور تحریری منشور سامنے نہیں آیا۔ بدعنوانی کے خلاف آواز ایک طاقتور نعرہ تو ہے، مگر ریاستی نظام میں اس کے عملی نفاذ کے لیے ٹھوس پالیسی درکار ہوتی ہے، جو فی الحال غیر واضح دکھائی دیتی ہے۔
اقرار الحسن کی اصل طاقت ان کی ذاتی مقبولیت ہے، مگر پاکستانی سیاست میں صرف مقبول چہرہ کافی نہیں ہوتا۔ پارٹی کی تنظیمی ساخت، مقامی سطح پر قیادت اور انتخابی حکمت عملی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس بات کا خدشہ بھی موجود ہے کہ عوام راج پارٹی ایک ون مین شو بن کر رہ جائے، جو پاکستان میں نئی سیاسی جماعتوں کی ایک پرانی کمزوری رہی ہے۔
پاکستانی سیاست کے تناظر میں عوام راج پارٹی کو ایک پریشر گروپ سے باقاعدہ سیاسی جماعت بننے کا چیلنج درپیش ہے۔ اگر یہ جماعت صرف احتجاجی سیاست تک محدود رہی تو اس کی عمر مختصر ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر یہ مرحلہ وار بلدیاتی سیاست، پالیسی ڈویلپمنٹ اور تنظیمی تعمیر پر توجہ دیتی ہے تو شہری متوسط طبقے میں ایک متبادل آواز بن سکتی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں سب سے اہم سوال اقرار الحسن کے اپنے مؤقف سے جڑا ہے۔ وہ بارہا یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ وہ اقتدار کے خواہشمند نہیں، کسی سرکاری عہدے کے طلبگار نہیں اور نہ ہی روایتی سیاستدان بننا چاہتے ہیں۔ بظاہر یہ مؤقف اخلاقی طور پر پرکشش ہے، مگر سیاست اخلاقیات سے زیادہ طاقت کے توازن کا نام ہے۔
پاکستانی سیاست میں قیادت کی ساکھ کا ایک بڑا ذریعہ اقتدار یا اقتدار کے قریب ہونا ہے۔ یہاں کارکن اس رہنما کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جس کے پاس وسائل، اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی کی طاقت ہو۔ اگر پارٹی کا بانی خود واضح طور پر یہ کہے کہ وہ اقتدار میں نہیں آئے گا اور کسی عہدے کا خواہشمند نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر جماعت کو متحد رکھنے کا مرکز کہاں ہوگا۔
اقتدار سے دوری وقتی طور پر اخلاقی برتری تو دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہی رویہ جماعت کے اندر انتشار کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں قیادت نے خود کو طاقت کے میدان سے الگ رکھا، وہاں جماعتیں جلد یا بدیر غیر مؤثر ہو گئیں یا دھڑوں میں بٹ گئیں۔
عوام راج پارٹی اس وقت مکمل طور پر اقرار الحسن کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی آواز، ان کی شہرت اور ان کا بیانیہ ہی پارٹی کی شناخت ہے۔ اگر یہی شخصیت عملی سیاست اور اقتدار کی دوڑ سے الگ رہتی ہے تو پارٹی کے اندر دوسری صف کی قیادت خود کو غیر محفوظ محسوس کرے گی۔ طاقت سے محروم قیادت کارکن کو اخلاقی خطبہ تو دے سکتی ہے، مگر انتخابی سیاست میں کارکن یقین، سمت اور مستقبل مانگتا ہے۔
عوام راج پارٹی کا بیانیہ احتجاج، احتساب اور سوال اٹھانے کی حد تک تو مؤثر ہے، مگر جیسے ہی اسے قانون سازی، بجٹ، خارجہ پالیسی اور ریاستی مفاہمت جیسے عملی سوالات کا سامنا ہوگا، محض اخلاقی برتری کافی نہیں رہے گی۔ اگر اقرار الحسن اقتدار یا عہدے سے مکمل لاتعلقی اختیار کرتے ہیں تو پارٹی یا تو ایک مستقل پریشر گروپ بن کر رہ جائے گی یا وقت کے ساتھ اپنی کشش کھو دے گی۔ پاکستان میں پریشر گروپس کا اثر ہمیشہ وقتی رہا ہے۔
نظریاتی طور پر اقتدار کے بغیر بھی جماعت کو متحد رکھا جا سکتا ہے، مگر پاکستانی سیاسی مزاج میں اس کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہاں جماعتیں نظریے سے زیادہ طاقت کے امکان سے جڑی رہتی ہیں۔ اگر یہ امکان ختم ہو جائے تو وفاداریاں بھی کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
اقرار الحسن کی نیت پر سوال نہیں، مگر سیاست نیت سے زیادہ نظم، ادارہ سازی اور طاقت کا تقاضا کرتی ہے۔ عوام راج پارٹی اس وقت ایک اخلاقی احتجاج اور ایک سیاسی وعدہ ضرور ہے، مگر ابھی مکمل سیاسی قوت نہیں بنی۔ اگر اقرار الحسن واقعی اقتدار میں نہ آنے اور کسی عہدے کو قبول نہ کرنے کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں تو انہیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس راستے پر جماعت کو متحد رکھنا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ یہ امتحان نعروں سے نہیں بلکہ ادارہ سازی، اجتماعی قیادت اور واضح سیاسی سمت سے ہی پاس کیا جا سکتا ہے۔
بصورت دیگر خدشہ یہی رہے گا کہ عوام راج پارٹی بھی پاکستانی سیاست کے ان تجربات میں شامل ہو جائے گی جو درست سوال تو اٹھاتے ہیں، مگر طاقت کے جواب دینے سے پہلے ہی کمزور پڑ جاتے ہیں۔
دیکھیں: معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کے دفاعی ساز و سامان کی مانگ میں اضافہ: وزیراعظم