بلوچستان قدرتی حسن اور دلکش مناظر سے مالا مال صوبہ ہے جہاں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ صوبے کے وسیع ساحلی علاقے، بلند پہاڑی سلسلے، وادیاں اور صحرا اسے ایک منفرد سیاحتی حیثیت دیتے ہیں۔ ہب سے شروع ہو کر گوادر اور جیوانی تک پھیلی کوسٹل بیلٹ، گڈانی، کند ملیر، سپٹ بیچ اور رِس ملان جیسے مقامات اپنی خوبصورتی کے باعث ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
حکومتی اقدامات
بلوچستان کے پارلیمانی سیکریٹری زرین خان مگسی نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ صوبے میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم بدقسمتی سے اب تک کوئی جامع سیاحتی پالیسی موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اب ایک جامع سیاحتی پالیسی پر کام کر رہی ہے جسے نہ صرف تیار کیا جائے گا بلکہ قانون سازی کے ذریعے مؤثر طور پر نافذ بھی کیا جائے گا۔ گزشتہ سال منعقدہ سیاحتی کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کا مقصد ان مقامات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔
غیر ملکی سیاح
زرین خان مگسی کے مطابق بلوچستان کا تمام ساحلی خطہ محفوظ اور پُرامن ہے اور وہ خود بھی ان علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال قریباً 40 سے 50 غیر ملکی سیاحوں نے کند ملیر اور رِس ملان جیسے مقامات کا دورہ کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس خطے کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ ہب اور گڈانی کے قریب واقع بڑے جزیرے بھی ایڈونچر ٹورازم کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
معاشی استحکام
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان میں سیاحتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے تو یہ خطہ قومی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ محفوظ اور پرامن ماحول کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کی موجودگی اسے ‘ایکو ٹورازم’ کے لیے بہترین منزل بناتی ہے۔ سیاحت کے شعبے کی ترقی سے نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہوگی بلکہ صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔