ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست مذاکرات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن سے فی الوقت کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور تمام ایرانی مذاکرات کار تہران میں موجود ہیں۔
ترجمان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوئی نئے ثالث سامنے نہیں آئے، تاہم چین اس سلسلے میں کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نہ کسی وفد کا مہمان بنے گا اور نہ فی الحال کسی کی میزبانی کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان ہی واحد اور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تہران کے مطابق پاکستان اس نازک سفارتی عمل میں بنیادی پل کا کام کر رہا ہے، جبکہ قطر بھی حسبِ ضرورت معاونت فراہم کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ عمان کے ساتھ عارضی محفوظ راستے کے قیام پر بات چیت ہو رہی ہے، مگر صرف یہی معاہدہ بحران کا حتمی حل نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال گزشتہ سال مارچ میں امریکہ اور صیہونی ریاست کی فوجی جارحیت کا نتیجہ ہے۔ جب تک امریکی جارحیت ختم نہیں ہوگی، بحران برقرار رہے گا۔