ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے حوالے سے زیر گردش خبروں نے جہاں عالمی سطح پر بے یقینی پیدا کی ہے، وہاں اس واقعے کے مختلف پہلوؤں نے کئی سنجیدہ سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ اس کہانی کا ایک اہم زاویہ جو ان دنوں زیرِ بحث ہے وہ ‘ہم شکل’ کی موجودگی کا امکان ہے۔ بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ ممکنہ حملے میں نشانہ بننے والا شخص ان کا ہم شکل یا کوئی قریبی فرد تھا، جبکہ اصل شخصیت محفوظ مقام پر ہو سکتی ہے۔
تہران کی خاموشی
اس بیانیے کو اس منطق سے تقویت مل رہی ہے کہ اتنی بڑی عالمی شخصیت کے حوالے سے ایرانی حکومت کی جانب سے فوری، واضح اور دوٹوک سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، اور نہ ہی فوری طور پر کسی نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی عمل میں لائی گئی۔ تاریخ گواہ ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر دشمن کو گمراہ کرنے کے لیے اکثر ہم شکلوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جب تک تہران سے کوئی غیر مبہم وضاحت نہیں آتی، یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ آیا دنیا جسے حقیقت سمجھ رہی ہے، وہ مکمل سچ ہے یا اس کا اصل رخ اب بھی سامنے آنا باقی ہے۔
پاکستان میں فتنہ و فساد
دوسری جانب اس واقعے کے اثرات پاکستان میں جس طرح دیکھے جا رہے ہیں وہ تشویشناک ہیں۔ پاکستان میں ایک مخصوص طبقے کی جانب سے اس واقعے کا غصہ اپنے ہی ملک کی سڑکوں پر نکالا جا رہا ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھانا ازحد ضروری ہے کہ کیا کبھی ایران کے عوام نے پاکستان کے مسائل یا پاکستانی شہریوں کی شہادت پر اس طرح کا شدید ردعمل دیا؟ کیا کبھی تہران میں کسی غیر ملکی سفارت خانے کو پاکستان کی حمایت میں جلایا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر ملک اپنی قومی مفاد اور خودمختاری کو ترجیح دیتا ہے، مگر پاکستان میں بیرونی واقعات کو بنیاد بنا کر اپنے ہی گھر کو نذرِ آتش کرنا منطقی طور پر کمزور اور قومی یکجہتی کے لیے مہلک ہے۔
ریاستی اداروں کے خلاف مہم
انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گلگت بلتستان، کراچی اور اسکردو سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بعض شدت پسند عناصر اس غم و غصے کا رخ پاکستان کی ریاست اور فوج کی طرف موڑنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے، بلکہ یہ مخصوص طبقہ ماضی میں بھی بارہا اس طرح کی منفی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے، جہاں بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ملک کے اندرونی امن کو داؤ پر لگایا گیا۔ ان تمام اقدامات کے پیچھے مجلسِ وحدتِ مسلمین اور سپاہِ محمد جیسی تنظیموں کے مرکزی قائدین مکمل طور پر متحرک اور موجود ہیں، جو اپنے سیاسی و گروہی مفادات کے لیے سادہ لوح عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زینبیون اور فاطمیون بریگیڈ جیسے گروہوں اور کالعدم تنظیموں کے افراد اب نام بدل بدل کر سرگرمِ عمل ہیں اور پاکستان کے دفاعی حصار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان مخصوص گروہوں کی جانب سے مذہب اور مسلک کی آڑ لے کر ریاست کو بلیک میل کرنے کا یہ سلسلہ اب حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف جو پاکستان میں رہ کر بیرونی وفاداریوں کو ترجیح دیتے ہیں، اب ریاست اور متعلقہ اداروں کی جانب سے سخت اور فیصلہ کُن اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ قانون کی بالادستی قائم رہے اور کسی کو بھی اپنی ہی فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔
اگر ایرانی رہنماء کی حفاظت وہاں کے اداروں اور پاسدارانِ انقلاب کی ذمہ داری تھی، تو اس کا ملبہ پاکستانی فوج پر ڈالنا کسی بھی طور حب الوطنی نہیں بلکہ ایک گہری سازش ہے۔ دشمن قوتیں عرصہ دراز سے فرقہ واریت کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اس نازک وقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جذباتی ردعمل کے بجائے ہوش مندی کا مظاہرہ کیا جائے۔ کسی بھی ایسے بیانیے کو مسترد کرنا ہوگا جو پاکستان کے اندر تقسیم اور انتشار پیدا کر کے دشمن کے ایجنڈے کو تقویت پہنچائے۔
ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بلاتفریق میدانِ عمل میں آئیں اور ان ملک دشمن عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔ مذہب یا مسلک کا لبادہ اوڑھ کر بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کرنے والے گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری قانونی کاروائی وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ آئندہ کوئی بھی گروہ یا کالعدم تنظیم ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور عوام کو اداروں کے خلاف بھڑکانے کی جرات نہ کر سکے۔