ایران۔ ترکی سرحد کے قریب واقع علاقے باگھلاچہ میں شدید برفباری اور زیرو ڈگری درجہ حرارت کے باعث ہلاک ہونے والے افغان مہاجرین کی تعداد بڑھ کر کم از کم 45 ہو گئی ہے۔ مقامی افغان کمیونٹی لیڈرز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ اطلاعات دی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ہلاک شدہ میں زیادہ تر نوجوان اور درمیانی عمر کے مرد شامل ہیں، جن میں سے کئی اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے۔ متاثرین کا تعلق افغانستان کے مختلف صوبوں بشمول غزنی، پروان اور کاپیسا سے ہے۔
ایرانی حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور تحقیقات کا عندیہ دیا ہے، جبکہ ترکی کی سرحدی انتظامیہ نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اس حادثے کے بعد بین الاقوامی اداروں نے فوری ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسانی بنیادوں پر فوری کارروائی اور سرحدی پالیسیوں پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
پس منظر
باگھلاچہ کا علاقہ غیر قانونی سرحد پار کرنے اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے مشہور ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس راستے پر سینکڑوں افغان مہاجرین شدید موسمی حالات یا دیگر حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔
دیکھیں: کابل میں افغانستان فرنٹ فار فریڈم کا چیک پوسٹ پر حملہ، دو طالبان ہلاک