ایران نے اپنی تجارتی ترجیحات میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بجائے پاکستان کے بندرگاہی اور شاہراہی نیٹ ورک کو اپنے زیادہ تر درآمدی سامان کی ترسیل کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ تہران اور اسلام آباد کے درمیان طے پانے والے نئے راہداری معاہدوں کے تحت ایران اپنی تجارتی لاجسٹکس کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے راستے منتقل کر رہا ہے۔ اسٹریٹجک اور تجارتی لحاظ سے یہ فیصلہ خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
تاریخی طور پر ایران اپنی درآمدات اور راہداری تجارت کے لیے یو اے ای کی بندرگاہوں، خاص طور پر جبل علی پورٹ پر انحصار کرتا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور جنگی جھٹکوں نے اس روٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے، جس کے باعث ایران کو متبادل راستوں کی تلاش تھی۔ پاکستانی روٹ کا انتخاب نہ صرف تہران کی تجارتی راہوں کو متنوع بنائے گا بلکہ اس کی سپلائی چین کو بھی مستحکم کرے گا۔
پاکستان کی وزارتِ تجارت کی جانب سے تیسرے ممالک کے سامان کو پاکستانی علاقے سے ایران تک جانے کی اجازت دینے کے بعد اس کوریڈور کے فعال ہونے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ مجوزہ راستوں میں گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم کو پاکستان کے سرحدی مقامات گباد اور تفتان سے ملانے والے روڈ کوریڈورز شامل ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے تجارت کے حجم میں اضافے سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اقتصادی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔
یہ پیشرفت پاکستان کے لیے بھی ایک بہترین موقع ہے کہ وہ خطے میں ایک اہم تجارتی اور راہداری مرکز کے طور پر ابھرے۔ اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور لاجسٹک روابط کا فروغ نہ صرف دونوں ممالک کے معاشی مفادات میں ہے بلکہ یہ علاقائی استحکام اور روابط کو بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔
دیکھئیے: بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کر رہا ہے: خواجہ آصف