اسلام آباد میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران کئی امور پر پیش رفت کے باوجود پانچ بڑے اختلافات ایسے سامنے آئے جو حتمی معاہدے کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بن گئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق بعض نکات پر مفاہمت ہوئی، تاہم چند اہم معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا۔
سب سے بڑا اور بنیادی تنازع ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جہاں امریکہ ایران سے مکمل یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ نہ صرف جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا بلکہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت بھی ختم کرے گا۔ دوسری جانب ایران مؤقف رکھتا ہے کہ اسے شہری مقاصد کیلئے افزودگی کا حق حاصل ہے اور وہ اس سے دستبردار نہیں ہوگا۔
دوسرا اہم اختلاف لبنان کی صورتحال ہے، جہاں ایران اسرائیلی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کو ضروری قرار دے رہا ہے، جبکہ امریکی مؤقف کے مطابق اسرائیلی کاروائیوں کی شدت میں کچھ کمی ہو گی، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہوں گے۔ذرائع کے مطابق یہی معاملہ مذاکرات پر براہِ راست اثر انداز ہوا۔
تیسرا بڑا تنازع آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور جہازرانی سے متعلق ہے۔ امریکہ ایران پر عالمی جہازوں کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور فیس عائد کرنے کا الزام عائد کر رہا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختار حدود قرار دیتے ہوئے نئے قواعد متعارف کروانا چاہتا ہے۔
چوتھا اختلاف ایران کے علاقائی اتحادیوں سے متعلق ہے، جن میں حزب اللہ، حماس اور دیگر گروہ شامل ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ایران انہیں اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتا ہے اور ان سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔
پانچواں اہم مسئلہ پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی بحالی ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ تمام اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں اور اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں، جبکہ امریکی مؤقف کے مطابق ایسی بڑی رعایت فوری طور پر ممکن نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی بنیادی اختلافات مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود حتمی معاہدے کی راہ میں “بڑی رکاوٹ” بنے ہوئے ہیں، تاہم جاری سفارتی عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق مکمل تعطل کے بجائے تدریجی حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، جہاں پاکستان کی میزبانی ایک اہم سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی ہے۔
دیکھئیے:تل ابیب میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاج: مظاہرین کا تمام جنگیں روکنے کا مطالبہ، سیاسی دباؤ میں اضافہ