اسلام آباد: ایرانی پارلیمان کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی صلاحیت اور ساکھ پر اٹھائے گئے سوالات کو سفارتی حلقوں میں غیر ضروری اور حقائق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ابراہیم رضائی نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے موزوں ثالث نہیں ہے اور وہ مبینہ طور پر امریکی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ تاہم، پاکستان کا طویل المدتی سفارتی ریکارڈ اور خطے میں امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششیں ان الزامات کی مکمل تردید کرتی ہیں۔
پاکستان دوست و همسایه خوب ماست اما واسطه مناسبی جهت مذاکرات نیست و اعتبار لازم را برای واسطهگری ندارد. آنها همیشه مصلحت ترامپ را در نظر میگیرند و برخلاف میل آمریکاییها حرفی نمیزنند بطور مثال حاضر نیستند به دنیا بگویند که آمریکا ابتدا پیشنهاد پاکستان را پذیرفت اما بعد زیر حرفش…
— ابراهیم رضایی (@EbrahimRezaei14) April 26, 2026
پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کا تنازع نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقائی معاملات میں ہمیشہ ایک “غیر جانبدار سہولت کار” کا کردار ادا کیا ہے، جس کا واحد مقصد خون خرابے کو روکنا اور سفارت کاری کو موقع دینا ہے۔ یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ پاکستان کسی ایک فریق یا امریکہ کے دباؤ میں کام کرتا ہے؛ بلکہ پاکستان کی تمام تر کوششیں خالصتاً خطے میں استحکام اور مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لیے رہی ہیں۔
حقیقی طور پر ایک ثالث کا کام فریقین کے درمیان رابطے کا پل بننا ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک فریق کے بیانیے کو دنیا پر مسلط کرنا۔ پاکستان نے ہمیشہ دونوں جانب کے خدشات کو سنا اور ایک ایسے حل کی تلاش کی جس سے کشیدگی میں کمی آ سکے۔ جہاں تک وعدوں کی خلاف ورزی کا تعلق ہے، پاکستان خود کئی بار بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اصولی موقف اپنا چکا ہے۔ پاکستان کی نیت پر شک کرنا ان تمام مخلصانہ کوششوں کی نفی ہے جو اسلام آباد نے تہران اور دیگر دارالحکومتوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے کی ہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نازک موڑ پر جب خطے کو اتحاد کی ضرورت ہے، اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو تعاون کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ پاکستان کسی خاص ایجنڈے کے تحت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار پڑوسی ہونے کے ناطے امن کا علمبردار ہے۔ پاکستان کے دروازے ہمیشہ مذاکرات اور خیر سگالی کے لیے کھلے ہیں، اور اس کی ثالثی کی بنیاد کسی کی طرف جھکاؤ نہیں بلکہ صرف اور صرف پائیدار امن کی خواہش پر استوار ہے۔
دیکھئیے:پاکستانی سفارت کاری کے خلاف صیہونی پروپیگنڈا؛ امجد طہٰ کا متعصبانہ بیانیہ اور حقائق