"> ایران کی جنگی حکمت عملی: قلیل مدتی فائدہ، طویل مدتی خطرات - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران کی جنگی حکمت عملی: قلیل مدتی فائدہ، طویل مدتی خطرات

خلیج فارس دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی فراہم کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 17 سے 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے شدید جھٹکا بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔
ایران کی جنگی حکمت عملی: قلیل مدتی فائدہ، طویل مدتی خطرات

آخرکار، ہر جنگ میں ایک حد آتی ہے جہاں اس کے معاشی، سفارتی اور سیکیورٹی اخراجات اس کے ممکنہ فوائد سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ایران کے لیے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ آیا موجودہ حکمتِ عملی اس حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔

April 3, 2026

ایران کی موجودہ جنگی حکمتِ عملی کو اگر مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا مقصد صرف فوری عسکری برتری حاصل کرنا نہیں بلکہ خطے میں اسٹریٹیجک دباؤ پیدا کرنا، اپنے مخالفین کو ڈیٹر کرنا اور مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمتِ عملی اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہے یا اس کے نتیجے میں نئے خطرات اور غیر ارادی نتائج جنم لے رہے ہیں؟

ایران کی جانب سے تنازع کو خلیجی خطے تک وسعت دینا بظاہر ڈیٹرنس اور لیوریج حاصل کرنے کی کوشش ہے، لیکن عملی طور پر یہ حکمتِ عملی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ خلیجی ممالک، جو براہِ راست فریق نہیں تھے، اب خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں، جس سے علاقائی اتحاد مزید مضبوط ہو سکتے ہیں اور ایران کے خلاف صف بندی بڑھ سکتی ہے۔ اس طرح محدود جنگ کو وسیع کرنے کا عمل ایران کی پوزیشن مضبوط کرنے کے بجائے اس کے خلاف ایک وسیع تر اتحاد کو جنم دے سکتا ہے۔

معاشی اعتبار سے بھی یہ حکمتِ عملی خطرات سے خالی نہیں۔ خلیج فارس دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی فراہم کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 17 سے 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو بند کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے شدید جھٹکا بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ اس کا اثر نہ صرف مغربی ممالک بلکہ خود خطے کی معیشتوں پر بھی پڑے گا، جن کا انحصار توانائی کی برآمدات پر ہے۔

قانونی اور اخلاقی پہلو سے بھی ایران کی حکمتِ عملی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین، خصوصاً اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت، کسی ایسے ملک کو نشانہ بنانا جو براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہو، تناسب اور خود دفاع کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ توانائی کے مراکز، بندرگاہوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے نہ صرف معاشی بلکہ انسانی بحران کو بھی جنم دیتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ایران کی سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، خطے میں کشیدگی بڑھانے سے طویل المدتی دشمنی کو فروغ ملنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جہاں عرب، ایرانی، ترک اور دیگر اقوام کو ہر صورت ایک ساتھ رہنا ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی مزید بڑھی تو یہ فرقہ وارانہ اور جغرافیائی تقسیم کو گہرا کر سکتی ہے، جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

ایک اور اہم پہلو سفارتی تنہائی کا خطرہ ہے۔ اگر عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور غیر جانبدار ممالک بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں تو ایران کے لیے بین الاقوامی حمایت برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس طرح تنازع کو وسعت دینا وقتی طور پر دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ ایران کے لیے سفارتی تنہائی کا سبب بن سکتا ہے۔

آخرکار، ہر جنگ میں ایک حد آتی ہے جہاں اس کے معاشی، سفارتی اور سیکیورٹی اخراجات اس کے ممکنہ فوائد سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ایران کے لیے بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ آیا موجودہ حکمتِ عملی اس حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر تنازع کو محدود کرنے، سفارتی راستے اختیار کرنے اور ایک قابلِ قبول سیاسی حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

دیکھیے: اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام بے نقاب، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سامنے آگئیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *