فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان میں اختلافات کے دعوے من گھڑت پراپیگنڈا ہیں؛ خوارج کو افغان سرپرستی اور پناہ گاہیں بدستور حاصل ہیں۔

August 20, 2026

افغان فریڈم فرنٹ نے فیض آباد میں طالبان کے گورنر ہاؤس پر راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے جس میں 4 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔

August 20, 2026

بنوں کے شہری انعام خان نے دہشت گردی میں ملوث بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر کے امن کا پیغام دیا ہے۔

August 20, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات، دو دہائیوں بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ۔

August 20, 2026

پنجگور کے علاقے کِلّی سوران میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک، بھاری اسلحہ اور گاڑیاں برآمد۔

August 20, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو ایک بار پھر بامقصد مذاکرات کی دعوت، کہا تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

August 20, 2026

اسرائیل کا اے آئی جنگی نظام بے نقاب، ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسرائیل کا یہ اے آئی نظام جدید جنگی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں روایتی جنگ کے بجائے ڈیجیٹل انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ میں اے آئی کا استعمال

مجتبیٰ خامنہ ای حملے کے وقت اسی کمپلیکس میں موجود تھے مگر چند لمحے قبل ملحقہ باغ میں چلے گئے، جس کے باعث وہ براہ راست حملے کی زد میں آنے سے بچ گئے۔

March 31, 2026

واشنگٹن: اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں ایک جدید اور خفیہ مصنوعی ذہانت (AI) نظام کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف بڑے پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ایرانی قیادت کے خلاف انتہائی درست ٹارگٹڈ کارروائیاں بھی کی گئیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا یہ اے آئی سسٹم گزشتہ دہائی کی اہم ترین انٹیلی جنس پیشرفتوں میں شمار ہوتا ہے، جو موساد اور اسرائیلی فوج کے ایلیٹ سائبر یونٹ 8200 کے اشتراک سے تیار کیا گیا۔

اے آئی سسٹم اور ایران میں ڈیجیٹل دراندازی

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے گزشتہ کئی برسوں میں ایران کے ڈیجیٹل نظام میں گہرائی تک رسائی حاصل کی اور بڑی مقدار میں حساس ڈیٹا اکٹھا کیا، جسے انسانی سطح پر پراسیس کرنا ممکن نہیں تھا۔

یہ نظام ایران کے داخلی سکیورٹی نیٹ ورک، ٹریفک کیمروں، ادائیگی کے پلیٹ فارمز اور پاسداران انقلاب، فوج اور پولیس کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

مزید برآں، ایران کی جانب سے عوامی احتجاج کے دوران نافذ کیے گئے ’انٹرنیٹ کِل سوئچ‘ نے بھی بالواسطہ طور پر اسرائیلی نگرانی کو آسان بنا دیا، جس کے ذریعے ای میلز، فون کالز اور پیغامات تک رسائی ممکن ہوئی۔

اس وسیع ڈیٹا کو اے آئی پلیٹ فارم کے ذریعے مسلسل تجزیہ کیا گیا، جس سے ایرانی قیادت کی نقل و حرکت، رویوں اور روزمرہ سرگرمیوں سے متعلق فوری اور درست معلومات حاصل کی جاتی رہیں۔

میدانِ جنگ میں اے آئی کی برتری

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دورانِ پرواز سپرسونک میزائلوں کا رخ بدل کر متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی ٹیکنالوجی کے باعث اسرائیل اب تک 250 سے زائد ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جن میں پاسداران انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر امیر علی حاجی زادہ بھی شامل ہیں، جنہیں حرکت کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر پر حملہ اور قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی طے کر لی گئی تھی، جس کی ذمہ داری اسرائیل کو سونپی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے تہران کے وسط میں واقع ایک کمپلیکس پر میزائل حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ عسکری اور دفاعی قیادت ہلاک ہو گئی۔

یہ کارروائی ایک سال طویل انٹیلی جنس آپریشن کا نتیجہ تھی، جس میں “گروپ آف فائیو” یعنی خامنہ ای اور ان کے قریبی حلقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل کو اس قدر درست معلومات حاصل تھیں کہ حملے کے وقت میں آخری لمحے پر تبدیلی کی گئی، کیونکہ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ اہم ملاقات کا وقت تبدیل ہو گیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا بچ جانا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای جاں بحق ہو گئے، تاہم ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بال بال بچ گئے۔

مجتبیٰ خامنہ ای حملے کے وقت اسی کمپلیکس میں موجود تھے مگر چند لمحے قبل ملحقہ باغ میں چلے گئے، جس کے باعث وہ براہ راست حملے کی زد میں آنے سے بچ گئے۔

اگرچہ وہ زخمی ہوئے جبکہ دھماکے میں ان کی اہلیہ اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ اے آئی نظام جدید جنگی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں روایتی جنگ کے بجائے ڈیجیٹل انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ مستقبل کی جنگوں کے انداز کو بھی مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔

دیکھئیے:پاکستان کا بڑا تجارتی فیصلہ، ایران و وسطی ایشیا کو برآمدات کیلئے خصوصی رعایت کا اعلان

متعلقہ مضامین

فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان میں اختلافات کے دعوے من گھڑت پراپیگنڈا ہیں؛ خوارج کو افغان سرپرستی اور پناہ گاہیں بدستور حاصل ہیں۔

August 20, 2026

افغان فریڈم فرنٹ نے فیض آباد میں طالبان کے گورنر ہاؤس پر راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے جس میں 4 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔

August 20, 2026

بنوں کے شہری انعام خان نے دہشت گردی میں ملوث بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر کے امن کا پیغام دیا ہے۔

August 20, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات، دو دہائیوں بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ۔

August 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *