پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری سنگین بحران کے حل اور عالمی امن کے قیام کے لیے ایک بڑا تزویراتی قدم اٹھاتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ ‘امن منصوبہ’ پیش کر دیا ہے۔ اس مشن کی قیادت خود فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں، جنہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نو منتخب صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے براہِ راست اور مسلسل رابطے کر کے اس پیچیدہ صورتحال میں بریک تھرو حاصل کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق پاکستان کی جانب سے تیار کردہ اس امن منصوبے کو عارضی طور پر “اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت حتمی مذاکرات اور معاہدے کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہونے کی توقع ہے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی
پاکستان کا تیار کردہ یہ تاریخی امن منصوبہ بنیادی طور پر دو کلیدی مرحلوں پر مشتمل ہے تاکہ فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔ پہلے مرحلے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فوری جنگ بندی عمل میں لائی جائے گی اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ‘آبنائے ہرمز’ کو فوری طور پر تمام بحری جہازوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں جنگ بندی کے محض پندرہ سے بیس دن کے اندر ایک جامع اور مستقل معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی جس کا مقصد خطے میں دہائیوں پر محیط دشمنی کا مستقل خاتمہ اور پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔
اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ
اسلام آباد امن فارمولے کے مسودے میں ایک اہم تزویراتی تبادلے کی تجویز دی گئی ہے جو فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ اس معاہدے کے طے پانے کی صورت میں ایران اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہو کر اپنے ایٹمی پروگرام کو عالمی معائنہ کاروں کی نگرانی میں محدود کرنے کا پابند ہوگا۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایران پر عائد تمام معاشی پابندیاں بتدریج نرم کرے گا اور ایران کے منجمد شدہ بین الاقوامی اثاثوں کو فوری طور پر بحال کر دیا جائے گا۔ مزید برآں، اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کے تحفظ اور اس کی بحری گزرگاہ کو پرامن رکھنے کے لیے ایک مستقل علاقائی فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے جو مستقبل میں کسی بھی تنازع کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتکاری
سفارتی ماہرین فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس متحرک کردار کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی عالمی ساکھ اور تزویراتی اہمیت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ اقدام نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لائے گا بلکہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک محفوظ تجارتی راہداری کو بھی یقینی بنائے گا۔ واشنگٹن اور تہران دونوں نے امن منصوبے کے مسودے کی وصولی کی تصدیق کر دی ہے، جس سے یہ تاثر قوی ہو گیا ہے کہ ‘اسلام آباد اکارڈ’ خطے کی تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ عالمی برادری کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں اس معاہدے کی حتمی تفصیلات طے پانے کے بعد باقاعدہ اعلان متوقع ہے۔
دیکھیے: مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کا تعاون ناگزیر ہے: پاکستان