وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق امام بارگاہ حملے کی منصوبہ بندی اور تیاری افغانستان میں کی گئی جبکہ ایک افغان نژاد غیر ملکی شہری کو کاروائی کا مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا

February 8, 2026

نیشنل انٹرسٹ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا ہے کہ بلوچستان میں تشدد کو محض معاشی تحفظات سے جوڑا جائے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی شکایات دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتیں اور بی ایل اے ایک واضح دہشت گرد تنظیم ہے، جسے پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور چین باضابطہ طور پر دہشت گرد گروہ قرار دے چکے ہیں۔

February 8, 2026

یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

February 8, 2026

پاکستان بارہا اقوام متحدہ، چین، ایران، روس اور دیگر ممالک کے ذریعے طالبان حکومت کو انتباہ کر چکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینا اور ان کے لیے آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ طالبان حکومت کی پالیسی کی بدولت دہشت گرد شہری علاقوں میں چھپ جاتے ہیں، جس سے شہری نقصان ایک متوقع اور ناگزیر نتیجہ بن جاتا ہے۔

February 8, 2026

میگزین میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے افغانستان کے راستے دراندازی اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی کمر توڑ دی ہے۔ مختلف علاقوں میں کی جانے والی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

February 8, 2026

اس المناک واقعے کی اطلاع یکم فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں خاندان کو ملی۔ نوشکی سے آنے والی فون کال میں بتایا گیا کہ ان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک خطیب کو بی ایل اے کے حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

February 8, 2026

اسلام آباد حملہ: افغان روابط، سرحد پار دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے بڑھتے خدشات

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق امام بارگاہ حملے کی منصوبہ بندی اور تیاری افغانستان میں کی گئی جبکہ ایک افغان نژاد غیر ملکی شہری کو کاروائی کا مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق امام بارگاہ حملے کی منصوبہ بندی اور تیاری افغانستان میں کی گئی جبکہ ایک افغان نژاد غیر ملکی شہری کو کاروائی کا مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا

اقوام متحدہ کی رپورٹس نے افغانستان میں بیس سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں، جو سکیورٹی حلقوں کے مطابق منصوبہ بندی اور رابطوں کے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں

February 8, 2026

اسلام آباد امام بارگاہ میں ہونے والے حالیہ حملے نے ایک مرتبہ پھر افغانستان سے مربوط دہشت گردی کے مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور تربیت افغانستان میں کی گئی جبکہ ایک افغان نژاد غیر ملکی شہری کو کاروائی کا مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ پیش رفت اس دعوے سے متصادم ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

سہولت کار اور سرحد پار روابط

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہوں کے درمیان رابطوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ افغان نژاد سہولت کار کی گرفتاری کو اس بات کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے کہ افغان بنیادوں پر قائم نیٹ ورکس منصوبہ بندی اور تربیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شہری اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والی کاروائیوں میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔

دہشت گرد تنظیمیں اور علاقائی خدشات

بین الاقوامی رپورٹس، بالخصوص اقوام متحدہ کی دستاویزات افغانستان میں بیس سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سکیورٹی حلقوں کے مطابق یہی عناصر افغانستان کو رابطے، منصوبہ بندی اور کاروائیوں کی تیاری کے مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان کی انسداد دہشت گردی یقین دہانیوں کی مؤثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مالی معاونت

پاکستانی حکام نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم بعض دہشت گرد نیٹ ورکس کو بیرونی معاونت حاصل ہے، جس میں بھارت کی جانب سے مالی معاونت اور اہداف کے تعین کا دعویٰ شامل ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق دہشت گردی کی مالی معاونت میں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ کاروائیاں انفرادی نوعیت کی نہیں بلکہ منظم سرپرستی کے تحت کی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ بیانیے کو بعض بھارتی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فروغ ملنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف

سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور مسلسل انسداد دہشت گردی اقدامات کے ذریعے اس خطرے کو محدود رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد مسجد حملے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے ایک بار پھر اس بحث کو تیز کر دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے متعلق خدشات کا مؤثر حل ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

نیشنل انٹرسٹ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا ہے کہ بلوچستان میں تشدد کو محض معاشی تحفظات سے جوڑا جائے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی شکایات دہشت گردی کا جواز نہیں بن سکتیں اور بی ایل اے ایک واضح دہشت گرد تنظیم ہے، جسے پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور چین باضابطہ طور پر دہشت گرد گروہ قرار دے چکے ہیں۔

February 8, 2026

یہ تبدیلی طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اُس سخت گیر نظریے سے جڑی ہے جس میں کثرتِ رائے، مکالمے اور جامع تعلیم کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی کے ساتھ ساتھ افغان سرزمین پر 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی عالمی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ افغانستان کو امن و ترقی کے بجائے طویل المدتی عدم استحکام اور نظریاتی شدت پسندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

February 8, 2026

پاکستان بارہا اقوام متحدہ، چین، ایران، روس اور دیگر ممالک کے ذریعے طالبان حکومت کو انتباہ کر چکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینا اور ان کے لیے آزادانہ کام کرنے کی اجازت دینا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ طالبان حکومت کی پالیسی کی بدولت دہشت گرد شہری علاقوں میں چھپ جاتے ہیں، جس سے شہری نقصان ایک متوقع اور ناگزیر نتیجہ بن جاتا ہے۔

February 8, 2026

میگزین میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے افغانستان کے راستے دراندازی اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی کمر توڑ دی ہے۔ مختلف علاقوں میں کی جانے والی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

February 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *