وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ انہوں نے طلال چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ چکا ہے۔ اب وفاقی دارالحکومت پر کسی دھاوے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے زبردستی اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو چاہیے کہ وہ وفاق پر چڑھائی کے بجائے اپنے اپنے شہروں میں سیاسی سرگرمیاں کریں۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال
محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور شہداء کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف صوبائی قیادت اسلام آباد کی طرف دھرنوں اور مارچ کی تیاریوں میں الجھی ہوئی ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو مشورہ دیا کہ وہ احتجاج کی بجائے دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ دیں۔ لانگ مارچ پر صرف کی جانے والی توانائی اگر امن کے قیام پر لگائی جائے تو بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بدامنی سے کوئی جانی نقصان ہوا تو ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔
سکیورٹی فورسز کو واضح ہدایات
وفاقی وزیر داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو امن برقرار رکھنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ریاست کے خلاف اسلحہ کا استعمال کیا گیا جس سے بھاری نقصان ہوا۔
انہوں نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب اہلکاروں پر فائرنگ برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر کسی جتھے نے قانون نافذ کرنے والے جوانوں پر گولی چلائی تو ریاستی ادارے مکمل قانونی طاقت سے جواب دیں گے۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ملکی حالات کے پیش نظر احتجاج کے فیصلے پر نظرثانی کریں۔